
نئی دہلی، 5 اگست (ہ س):۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے بدھ کو کہا کہ وہ ہر صورت اپنے وطن واپس جائیں گی، خواہ واپسی پر انہیں گرفتار ہی کیوں نہ کر لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی واپسی اقتدار حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ بنگلہ دیش کو دوبارہ جمہوریت، ترقی اور سیکولرزم کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہوگی۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس جانا چاہتی ہیں، تاہم واپسی کی حتمی تاریخ کا اعلان بعد میں کریں گی۔
نئی دہلی میں واقع فارن کاریسپونڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا (ایف سی سی ایس اے) میں ورچوئل ذرائع سے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا، ”میں بہت جلد بنگلہ دیش جاو¿ں گی۔ میری خواہش ہے کہ دسمبر میں وطن واپس لوٹوں، تاہم حتمی تاریخ کا اعلان مناسب وقت پر کروں گی۔ مجھے ماضی میں بھی کئی مرتبہ گرفتار کیا گیا ہے، اگر اس بار بھی ایسا ہوا تو بھی میں اپنے ملک ضرور واپس جاؤں گی۔“
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس سے وہ اپنے محبوب بنگلہ دیش کو مشکلات اور بحران کا شکار دیکھ رہی ہیں۔ ان کے مطابق آج کا بنگلہ دیش وہ ملک نہیں رہا جس کے لیے 1971 کی جنگِ آزادی میں لاکھوں افراد نے قربانیاں دی تھیں۔
شیخ حسینہ نے کہا کہ جولائی اور اگست 2024 کے واقعات کوئی پُرامن طلبہ تحریک نہیں تھے بلکہ ایک منظم سیاسی سازش کا حصہ تھے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے طلبہ تحریک کے دوران مذاکرات، قانونی عمل اور تحمل کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی تھی اور واقعات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بھی تشکیل دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اصلاحات کے مطالبے کی آڑ میں منظم گروہوں نے طلبہ تحریک کو ایک پرتشدد سیاسی مہم میں تبدیل کر دیا۔
سابق وزیر اعظم نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ رہے محمد یونس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ”غیر قانونی حکومت“ کا سربراہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ محمد یونس خود اعتراف کر چکے ہیں کہ 2024 کی تحریک پہلے سے منصوبہ بند تھی اور اس کے پیچھے ایک ”ماسٹر مائنڈ“ موجود تھا۔ ان کے مطابق یہ کوئی خود رو طلبہ تحریک نہیں بلکہ اقتدار تک پہنچنے کے لیے جمہوری عمل سے ہٹ کر تیار کی گئی حکمت عملی تھی۔
شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن کی صاحبزادی ہیں اور بنگلہ دیش کے عوام سے ان کا رشتہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں عوامی لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اقلیتوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور جنگِ آزادی کی علامتوں کے ساتھ ساتھ شیخ مجیب الرحمٰن کے ورثے کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کے دوران بنگلہ دیش کی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے، صنعتی پیداوار میں کمی آئی ہے، اور ملک کو دوبارہ جمہوری نظام، معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کی راہ پر لانے کی ضرورت ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ