
نفرت انگیز اور ہتک آمیز مواد کی خودکار شناخت کا مؤثر نظام تیار کرنے پر زور، آئندہ شکایت ملتے ہی فوری کارروائی کی ہدایتممبئی ، 5 اگست (ہ س)۔ بامبے ہائی کورٹ نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کے خلاف سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارموں پر شائع ہونے والی قابلِ اعتراض پوسٹوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے ان پوسٹوں کو نفرت انگیز، ہتک آمیز، توہین آمیز اور فحش قرار دیتے ہوئے میٹا، ایکس اور گوگل جیسے پلیٹ فارموں کو مستقبل میں اس نوعیت کے مواد کی خودکار شناخت اور فوری حذف کے لیے مؤثر نظام تیار کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس عارف ڈاکٹر کی سنگل بنچ کے روبرو سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ ایسے قابلِ اعتراض مواد کی آن لائن پلیٹ فارموں پر کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچتا ہے اور بالخصوص نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ جب جدید ٹیکنالوجی دستیاب ہے تو ایسے مواد کی بروقت نشاندہی اور فوری حذف کے لیے مؤثر نظام کیوں نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت نے زور دے کر کہا کہ اگر کوئی شخص فحش یا ہتک آمیز مواد اپ لوڈ کرے تو اسے بلا تاخیر ہٹا دیا جانا چاہیے۔
بامبے ہائی کورٹ نے میٹا، ایکس اور گوگل کو ہدایت دی کہ وہ آئندہ اس نوعیت کی پوسٹوں کے خلاف ازخود کارروائی کے لیے مناسب طریقۂ کار وضع کریں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مستقبل میں اگر نتن گڈکری یا ان کے نمائندے کسی قابلِ اعتراض پوسٹ کی شکایت کریں تو متعلقہ پلیٹ فارم فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے ہٹا دے۔واضح رہے کہ نتن گڈکری نے ایتھنول پالیسی سے متعلق اپنے خلاف سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی پوسٹوں کے سلسلے میں میٹا، گوگل اور ایکس کے خلاف بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ انہوں نے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر 11 کروڑ روپے ہرجانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایتھنول پالیسی کے لیے ذاتی طور پر نتن گڈکری کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ اس پالیسی سے انہیں اور ان کے خاندان کو مالی فائدہ پہنچا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایتھنول ملاوٹ پروگرام اور ای ٹوئنٹی پالیسی پر عمل درآمد وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کی جانب سے کیا جاتا ہے، نہ کہ کسی ایک وزیر کی جانب سے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے