ٹیکس کے دائرے سے باہر افراد کے لیے خود کار ڈی ایس ریفنڈ کی درخواست، دہلی ہائی کورٹ کامرکز سے جواب طلب
نئی دہلی، 5 اگست (ہ س):۔ دہلی ہائی کورٹ نے ٹیکس ڈِڈکٹڈ ایٹ سورس (ٹی ڈی ایس) کی رقم خودکار طور پر واپس (ریفنڈ) کرنے کی ہدایت جاری کرنے سے متعلق ایک عرضی پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی
ٹیکس کے دائرے سے باہر افراد کے لیے آٹو میٹکٹی ڈی ایس ریفنڈ کی درخواست، دہلی ہائی کورٹ کامرکز سے جواب طلب


نئی دہلی، 5 اگست (ہ س):۔

دہلی ہائی کورٹ نے ٹیکس ڈِڈکٹڈ ایٹ سورس (ٹی ڈی ایس) کی رقم خودکار طور پر واپس (ریفنڈ) کرنے کی ہدایت جاری کرنے سے متعلق ایک عرضی پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔

چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت 6 نومبر مقرر کی ہے۔

یہ عرضی آکاش گوئل نے دائر کی ہے۔ عرضی میں انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 443 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ قانون کے مطابق کسی شخص کو انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے کے بعد ہی ٹی ڈی ایس کی رقم واپس مل سکتی ہے۔

عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسے افراد، جن پر کوئی ٹیکس واجب نہیں بنتا اور جنہیں صرف ٹی ڈی ایس کی واپسی کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنا پڑتا ہے، انہیں یہ رقم خودکار طریقے سے واپس کی جائے۔

عرضی گزار کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ان افراد کو درپیش ہے جن پر ابتدا میں ٹی ڈی ایس کا اطلاق ہوتا ہے، لیکن بعد میں مختلف ٹیکس چھوٹ کی بنیاد پر وہ ٹیکس کے دائرے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں وہ پہلے سے کٹی ہوئی ٹی ڈی ایس کی رقم واپس لینے کے حق دار ہوتے ہیں۔

عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تشخیصی سال 2023-24 سے 2025-26 تک جن افراد نے ٹی ڈی ایس ریفنڈ کا دعویٰ نہیں کیا، انہیں بغیر انکم ٹیکس ریٹرن داخل کیے سود سمیت ریفنڈ ادا کیا جائے۔

عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹی ڈی ایس ریفنڈ کے لیے مستقل اور خودکار نظام قائم کیا جانا چاہیے، کیونکہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے اور معمولی بچت رکھنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنا اکثر مشکل ثابت ہوتا ہے، جس کے باعث وہ اپنی جائز ریفنڈ رقم حاصل نہیں کر پاتے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande