
نئی دہلی، 5 اگست (ہ س):۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے راجیہ سبھا رکن ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا ہے کہ آزاد بھارت میں غلامی کی علامتوں کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
راجیہ سبھا میں خصوصی ذکر کے دوران انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک اپنی سرزمین سے غلامی کی علامتیں ختم کر چکے ہیں، لیکن آزادی کے 79 برس بعد بھی بھارت غلامانہ ذہنیت سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے جانبازوں نے اپنی جانوں کی قربانی اس لیے نہیں دی تھی کہ ملک میں حملہ آوروں کی یادگاروں اور علامتوں کو برقرار رکھا جائے۔
ڈاکٹر شرما نے کہا کہ پولینڈ اور بالٹک ممالک نے سوویت دور کی علامتوں کو عوامی مقامات سے ہٹا دیا، جبکہ چین نے جاپانی حملہ آوروں کی نشانیوں کو مٹانے کے ساتھ ساتھ اپنے نصاب میں بھی جاپان کو ایک حملہ آور ملک کے طور پر شامل کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس دہلی کی متعدد سڑکیں آج بھی بابر اور اکبر جیسے حملہ آوروں کے نام سے منسوب ہیں، جبکہ عدالتی نظام میں مائی لارڈ جیسے القابات غلامانہ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
بی جے پی رکن نے مطالبہ کیا کہ نئے بھارت کو ایسی تمام علامتوں سے آزاد کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے قومی سطح پر ایک کمیشن قائم کیا جائے جو نوآبادیاتی دور کی علامتوں اور غیر متعلق قوانین کا جائزہ لے۔
انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ نصابی کتب اور عجائب گھروں میں حملہ آوروں کو حکمران نہیں بلکہ حملہ آور کے طور پر پیش کیا جائے، جبکہ یادگاروں سے ان کے نام ہٹا کر ملک کے لیے قربانی دینے والے قومی ہیروز کے نام منسوب کیے جائیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ