
نئی دہلی، 5 اگست(ہ س)۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی صدارت میں منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں ’دہلی از آف ڈوئنگ بزنس بل 2026‘ کے مسودے پر غور کیا گیا۔ مجوزہ قانون کا مقصد دہلی کو ملک میں کاروبار قائم کرنے اور چلانے کے لیے سب سے آسان اور سرمایہ کار دوست ریاست بنانا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اس قانون کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ، صنعتوں کی توسیع اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر اور کابینہ کی منظوری کے بعد اس بل کو آئندہ کارروائی کے لیے مرکزی وزارت داخلہ کو بھیجا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ مجوزہ قانون حکومت ہند کی کمپلائنس ریڈکشن اینڈ ڈی ریگولیشن انیشی ایٹو (مرحلہ دوم) اور جن وشواس بل 2023 کے تصور کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد کاروباری ضابطوں کو آسان اور شفاف بنانا ہے۔بل کے تحت کاروبار سے متعلق مختلف منظوریوں، رجسٹریشن، لائسنس، این او سی اور دیگر اجازت ناموں کے لیے مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ اس مقصد کے لیے سنگل ونڈو سسٹم قائم کیا جائے گا، جہاں ایک ہی آن لائن پورٹل کے ذریعے زیادہ تر سرکاری خدمات دستیاب ہوں گی۔
مجوزہ پورٹل پر عمارتوں کے نقشوں کی منظوری، فیکٹری لائسنس، فائر کلیئرنس، پانی، سیوریج اور بجلی کے کنکشن، ریرا رجسٹریشن، کوآپریٹو سوسائٹیوں کی رجسٹریشن سمیت متعدد خدمات مقررہ مدت میں فراہم کی جائیں گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس پورے نظام کی ذمہ داری دہلی اسٹیٹ انڈسٹریل اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ڈی ایس آئی آئی ڈی سی) کو سونپی جائے گی، جو درخواست وصول ہونے سے لے کر حتمی منظوری تک تمام مراحل کی واحد نوڈل ایجنسی ہوگی اور متعلقہ محکموں کے درمیان رابطہ کاری کی ذمہ دار بھی ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ قانون کی ایک اہم خصوصیت’ڈیَمڈ اپروول‘(خودکار منظوری) کا نظام ہے۔ اگر کوئی مجاز اتھارٹی مقررہ مدت کے اندر کسی درخواست پر فیصلہ نہیں کرتی تو متعلقہ لائسنس، رجسٹریشن یا این او سی خود بخود منظور تصور ہوگی اور درخواست گزار اسے آن لائن پورٹل سے ڈاؤن لوڈ کر سکے گا۔ اس اقدام سے فائلوں کے غیر ضروری التوا اور فیصلہ سازی میں تاخیر کا خاتمہ ہوگا۔کم خطرے والے کاروباروں کے لیے سیلف سرٹیفکیشن کی سہولت بھی متعارف کرائی جائے گی۔ اس کے تحت آگ سے تحفظ، عمارتوں کے نقشوں کی منظوری، آلودگی سے متعلق اجازت نامے اور لو ٹینشن بجلی کے کنکشن جیسی کارروائیاں خود اعلانیہ بنیاد پر مکمل کی جا سکیں گی، جس سے چھوٹے اور کم خطرے والے کاروبار جلد شروع کیے جا سکیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ جن اداروں کی پہلے ہی جی ایس ٹی، ایف ایس ایس اے آئی، ایم ایس ایم ای ڈی ایکٹ یا لیبر کوڈز کے تحت رجسٹریشن موجود ہے، انہیں الگ سے ٹریڈ لائسنس، ہیلتھ ٹریڈ لائسنس، ایٹنگ ہاؤس لائسنس یا شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ رجسٹریشن حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نئے کاروبار کی رجسٹریشن کے بعد عام حالات میں تین سال تک معمول کا معائنہ نہیں کیا جائے گا، البتہ سنگین شکایت موصول ہونے کی صورت میں ہی انسپکشن کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ حکومت کسی درخواست گزار سے وہ دستاویزات یا معلومات دوبارہ طلب نہیں کرے گی جو پہلے ہی دہلی حکومت کے کسی محکمے کے پاس موجود ہوں۔
ریکھا گپتا کے مطابق مجوزہ قانون میں نوٹیفائیڈ صنعتی علاقوں میں صنعتوں کی توسیع کے لیے ایف اے آر، گراؤنڈ کوریج، سیٹ بیک اور عمارتوں کی اونچائی سے متعلق متعدد پابندیاں نرم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مشترکہ فائر سیفٹی انفراسٹرکچر کی ذمہ داری بھی انفرادی صنعتوں کے بجائے ڈی ایس آئی آئی ڈی سی کو سونپنے کی تجویز ہے، جس سے صنعتوں کی لاگت میں کمی آئے گی۔مجوزہ قانون کے تحت کاروباروں پر عائد ضوابط ان کے حقیقی خطرے کی نوعیت کے مطابق ہوں گے، جبکہ حکومت ضرورت پڑنے پر تمام لائسنسوں اور این او سی کے لیے یکساں مدتِ اعتبار بھی مقرر کر سکے گی۔ اس کے علاوہ تصدیق اور سرٹیفکیشن کے لیے مجاز پینل میں شامل پیشہ ور افراد اور دیگر ریاستوں کے منظور شدہ ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جا سکیں گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan