
نئی دہلی، 5 اگست(ہ س)۔ کانگریس کے مرکزی دفتر میں بدھ کے روز منعقدہ ایک تقریب کے دوران متعدد سابق سرکاری افسران، وکلا، سماجی کارکنوں اور مختلف سیاسی شخصیات نے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر انڈین پبلک جسٹس پارٹی اور سماج وکاس کرانتی پارٹی کے کانگریس میں انضمام کا بھی اعلان کیا گیا۔
کانگریس میں شامل ہونے والی نمایاں شخصیات میں بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) کے سابق رہنما ڈاکٹر انوپ کمار امبیڈکر، وکیل میانک یادو، وکیل شریہ یادو، اتر پردیش کے ریٹائرڈ پی سی ایس افسر سنیل کمار ورما، پنجاب کیڈر کے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر چودھری خوشی رام، اتر پردیش کیڈر کے ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر بی پی اشوک، کیرالہ کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سدیش کمار، کسان رہنما روہت جاکھڑ، ریٹائرڈ افسر وکرانت گوتم، سچن کمار، کشن سوروپ، آر کے میسی، راجندر پرساد بشپ، امت کمار، راشٹریہ لوک دل کی سابق سیکریٹری ساوتری گوتم، ارون بنسل اور اشوک سنگھ شامل ہیں۔
تقریب میں کانگریس کے میڈیا و تشہیر شعبے کے سربراہ پون کھیڑا، اتر پردیش کانگریس کے انچارج راجندر پال گوتم، کانگریس او بی سی شعبے کے قومی صدر ڈاکٹر انیل جے ہند اور رکن پارلیمنٹ راکیش راٹھور بھی موجود تھے، جن کی موجودگی میں تمام رہنماؤں نے پارٹی کی رکنیت حاصل کی۔
اس موقع پر سابق آئی پی ایس افسر بی پی اشوک نے اپنی انڈین پبلک جسٹس پارٹی کو کانگریس میں ضم کرنے کا اعلان کیا، جبکہ اشوک سنگھ نے سماج وکاس کرانتی پارٹی کے کانگریس میں انضمام کا باضابطہ اعلان کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر رہنما راجندر پال گوتم نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے تعلیم کو مہنگا کیا، سرکاری اداروں کی نجکاری کی، ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھایا اور سرکاری اسکول بند کیے۔
کانگریس کے او بی سی شعبے کے صدر ڈاکٹر انیل جے ہند نے کہا کہ ایک جانب مختلف سیاسی جماعتوں میں ٹوٹ پھوٹ اور ارکانِ پارلیمنٹ کی وفاداریاں تبدیل ہو رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف عوام کی حمایت مسلسل کانگریس کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوجوانوں میں حکومت کے خلاف شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور پریاگ راج میں منعقد ہونے والا ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام سیاسی طور پر ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan