
نئی دہلی، 05 اگست (ہ س):۔
کانگریس غیر ملکی چندہ (ضابطہ بندی) ترمیمی بل-2026 (ایف سی آر امینڈمینٹ بل) کی پارلیمنٹ میں بھرپور مخالفت کرے گی۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے الزام لگایا کہ حکومت ایف سی آر اے ترمیمی بل کو اس کی پرانی شکل میں دوبارہ نافذ کرنا چاہتی ہے، جس کے ذریعے بعض تنظیموں کو خصوصی رعایت دی جائے گی جبکہ دیگر غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
پارلیمنٹ ہاو¿س کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وینوگوپال نے کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اس معاملے پر پارٹی کے تحفظات حکومت کے سامنے مضبوطی سے رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور پورے اپوزیشن کا مو¿قف بالکل واضح ہے اور حکومت ایف سی آر اے کو اس کی پرانی شکل میں دوبارہ نافذ نہیں کر سکتی۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ مجوزہ انتظام کے تحت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ تنظیموں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایسی سوچ ناقابلِ قبول ہے اور کانگریس کسی بھی جابرانہ قانون کو پارلیمنٹ سے منظور نہیں ہونے دے گی۔
قابلِ ذکر ہے کہ اس بل کی امریکہ میں بھی مخالفت ہو رہی ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن رائلی مور نے 4 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ بھارتی پارلیمنٹ جن ترامیم پر غور کر رہی ہے، ان سے گرجا گھروں اور مذہبی اداروں پر حکومتی کنٹرول کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اسے مسیحی برادری کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بل اسی شکل میں منظور ہوا تو اس کے بھارت اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین جیمز رِش نے بھی جون میں ایف سی آر اے کی موجودہ دفعات کو غیر سرکاری تنظیموں کے لیے حد سے زیادہ سخت اور غیر شفاف قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر اس قانون کو بیرونی امداد حاصل کرنے والی مسیحی تنظیموں کے فنڈز یا جائیداد ضبط کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ شدید تشویش کا باعث ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ