
دنتےواڑا، 5 اگست (ہ س): ضلع ہیڈکوارٹر سے محض 5 کلومیٹر دور واقع بالپیٹ کے پٹیل پاڑہ میں برسات کے دنوں میں آج بھی چارپائی ہی ایمبولینس کا کام کرتی ہے۔ گاؤں تک پکی سڑک نہ ہونے کی وجہ سے ایمبولینس وہاں نہیں پہنچ پاتی، جس کے باعث شدید بیمار مریضوں کو چارپائی پر لٹا کر تقریباً دو کلومیٹر تک پیدل لے جانا پڑتا ہے۔
گاؤں والوں کا الزام ہے کہ سڑک کی تعمیر کے مطالبے کو لے کر کئی بار انتظامیہ اور عوامی نمائندوں سے فریاد کی گئی، لیکن ہر بار صرف یقین دہانیاں ہی ملیں۔ سال بہ سال ترقیاتی منصوبے بنتے رہے، مگر بالپیٹ پٹیل پاڑہ تک آج تک سڑک نہیں پہنچ سکی۔
بالپیٹ پٹیل پاڑہ کوئی ایسا علاقہ نہیں ہے جو ضلع ہیڈکوارٹر سے بہت دور یا رسائی سے باہر ہو، اس کے باوجود یہاں تک پکی سڑک نہیں بن سکی۔ برسات کے موسم میں کچا راستہ کیچڑ اور دلدل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ایمبولینس ڈرائیور گاؤں کے اندر گاڑی لے جانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ گاؤں والوں کے مطابق، ڈرائیوروں کو خدشہ رہتا ہے کہ ایمبولینس کیچڑ میں پھنس جائے گی۔ اس کے بعد مریض کے اہلِ خانہ اور گاؤں والوں کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ بیمار شخص کو چارپائی پر لٹا کر کندھوں پر اٹھاتے ہوئے بالود گاؤں تک پہنچایا جائے۔ گاؤں والون کے مطابق بالود تک تقریباً دو کلومیٹر کا فاصلہ ہے، جہاں سے ایمبولینس مریض کو اسپتال لے جاتی ہے۔
دنتےواڑا کے ضلع کلکٹر دیویش دھرو نے کہا کہ جلد ہی گاؤں میں ایک تکنیکی ٹیم بھیج کر سڑک سے متعلق رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔ بجٹ کی دستیابی کی بنیاد پر سڑک کی منظوری دی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد