
نئی دہلی، 31 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے پٹرول پمپوں پر فروخت کیے جانے والے پٹرول میں ایتھنول کی مقدار درج کرنے اور پٹرول کی رسید پر بھی اس کا ذکر کرنے کے مطالبے والی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جسٹس ایم ایم سندریش کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ عرضی گزار چاہیں تو ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔
یہ عرضی وکیل این کے گوسوامی نے دائر کی تھی۔ عرضی میں کہا گیا کہ عرضی گزار ای-20 پٹرول (20 فیصد ایتھنول ملا ہوا پٹرول) فروخت کرنے کی پالیسی کی مخالفت نہیں کر رہے ہیں، لیکن لوگوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ وہ آخر کیا خرید رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی رسید پر ایتھنول کی مقدار کا کوئی ذکر نہیں کیا جاتا۔ سماعت کے دوران عرضی گزار نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بھی سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ ایتھنول کے حوالے سے تجربات کیے جا رہے ہیں، لیکن بعد میں حکومت کی جانب سے اس دعوے کی تردید کر دی گئی۔
سماعت کے دوران گوسوامی نے کہا کہ یہ معاملہ ان کے ذاتی مفاد سے متعلق نہیں ہے بلکہ عام لوگوں کے مفاد سے جڑا ہوا ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس نوعیت کی ایک عرضی پہلے ہی خارج کی جا چکی ہے۔
اس سے پہلے سپریم کورٹ میں دائر عرضی میں کہا گیا تھا کہ ای-20 پٹرول سے گاڑیوں کے انجن پر اثر پڑ رہا ہے۔ گاڑیوں کا مائلیج بھی کم ہو گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک میں ایتھنول ملا ہوا ایندھن فراہم کیا جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بغیر ایتھنول والا ایندھن بھی دستیاب ہوتا ہے۔ تاہم بھارت میں ایتھنول والے ایندھن کا نہ تو متبادل فراہم کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں مکمل معلومات دی جاتی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد