
حیدرآباد، 31 اگست (ہ س) ۔ تلنگانہ اسٹیٹ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن (ٹی ایس پی ٹی اے) کے ریاستی صدرسید شوکت علی نے حکومتِ تلنگانہ کے محکمۂ تعلیمات سے مطالبہ کیا ہے کہ پہلی سے نویں جماعت تک ایکسٹرنل جانچ کے نفاذسے متعلق جاری کردہ احکامات کو فوری طور پر واپس لیاجائے۔حیدرآباد میں تنظیم کے ریاستی دفترمیں منعقدہ ہنگامی ریاستی سب کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید شوکت علی نے کہا کہ یہ فیصلہ محکمۂ تعلیم کی تاریخ کاانتہائی غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔انہوں نے کہاکہ حقِ تعلیم قانون (آرٹی ای) اور مسلسل وجامع جانچ(سی سی ای)کے بنیادی مقاصد کونظرانداز کرتے ہوئے عجلت میں یہ فیصلہ کیاگیا،جس پرماہرینِ تعلیم شدید حیرت کااظہار کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ریاست کے سرکاری پرائمری و اپر پرائمری مدارس پہلے ہی اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کے فقدان، تدریسی مشکلات اور غیر معمولی کام کے بوجھ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ایکسٹرنل جانچ کا اضافی نظام اساتذہ پرمزید دباؤ ڈالے گااور تدریسی عمل متاثرہوگا۔
سید شوکت علی نے واضح کیا کہ حقِ تعلیم قانون کے تحت پہلی سے نویں جماعت تک نان ڈیٹینشن پالیسی نافذ ہے اوراسی کے مطابق سی سی ای نظام پرعمل کیاجارہا ہے۔ ان کے مطابق ایس اے–1 اورایس اے–2 امتحانات کے جوابی پرچوں کی منڈل سطح پرتیسرے فریق کے ذریعے جانچ سی سی ای کے اصولوں کے منافی ہے اور اس سے تعلیمی معیار بہتر ہونے کے بجائے نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے یاد دلایاکہ ماضی میں ساتویں جماعت کے بورڈ امتحانات غیرضروری مالی و انتظامی بوجھ کے باعث ختم کئے گئےتھے،مگر اب اسی طرز پردوبارہ ایکسٹرنل جانچ متعارف کرانا ناقابلِ جواز ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس پالیسی کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔
اجلاس میں ریاستی جنرل سکریٹری آر روہیت نائیک، اسوسی ایٹ صدر پی سدھارانی، آر منگا، ڈاکٹر ساجد معراج، نائب صدور رام کرشنا، غلام احمد، شیخ شبیر علی، اے نارائن ریڈی، سید یحییٰ، این رام لنگم، ایس نرملا، ڈی راج مولی، اے نریندر اور بی جیا سمیت دیگر قائدین شریک تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق