مولانا حسن علی را جانی کی ایران میں ہندوستانی پرچم کو نذر آتش کرنے کی سخت مذمت، حکومت ہند سے سنجیدگی سے نوٹس لینے کا مطالبہ
نئی دہلی، 29 اگست(ہ س ) ۔ مولانا حسن علی راجانی نے ایران میں ہندوستانی قومی پرچم کو جلائے جانے کی خبروں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکومت ہند پر زور دیا کہ وہ ہندوستانی قومی پرچم کی بے حرمتی کے کسی بھی واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور اس
مولانا حسن علی را جانی کی ایران میں ہندوستانی پرچم کو نذر آتش کرنے کی سخت مذمت، حکومت ہند سے سنجیدگی سے نوٹس لینے کا مطالبہ


نئی دہلی، 29 اگست(ہ س ) ۔

مولانا حسن علی راجانی نے ایران میں ہندوستانی قومی پرچم کو جلائے جانے کی خبروں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکومت ہند پر زور دیا کہ وہ ہندوستانی قومی پرچم کی بے حرمتی کے کسی بھی واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور اس بات کا جائزہ لے کہ آیا ہندوستان میں مقیم افراد یا گروہ ہندوستان کے قومی مفادات کے خلاف سرگرمیوں میں کیوں ملوث ہیں۔مولانا را جانی نے کہا کہ دنیا بھر میں سبھی ایرانی حامی شیعہ گروہ امریکی اور اسرائیلی جھنڈوں کے ساتھ ہندوستانی پرچم بھی جلاتے ہیں۔ اور نماز کی دوسری رکعت کے رکو کے پہلے ہندو ستان کے وازیرے ا عظم نریندر بھائی مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی جی پر لعنت بھیجتے ہیں، انہوں نے کہا کہ کسی غیر ملک کی وفاداری کو اپنی قوم کے ساتھ وفاداری سے بالاتر نہیں رکھا جانا چاہئے اور انہوں نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا کہ ایسی کسی بھی سرگرمی کی بھارتی قانون کے مطابق تحقیقات کی جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ جو ایران کی بھرپور حمایت کرتے ہیں وہ اپنے ہی ملکوں کے جھنڈوں کی بے عزتی کرتے ہوئے اپنے گھروں میں ایرانی پرچم آویزاں کرتے ہیں۔ راجانی نے کہا کہ حکومت ہند کو چاہئے کہ جو بھی ملک مخالف یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہے ، اس کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کرے، چاہے اس کی مذہبی یا فرقہ وارانہ شناخت کچھ بھی ہو۔مولانا راجانی نے یہ بھی الزام لگایا کہ بعض مواقع پر ایران نواز عناصر نے ہندوستان کے یوم آزادی کی تقریب پر اعتراض کیا ہے اور یوم آزادی کے پروگراموں میں شرکت کرنے والے لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی اختلافات کو قومی اتحاد، حب الوطنی یا ہندوستان کی قومی علامتوں کے احترام کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ہندوستانی جھنڈوں کے بارے میں مبینہ طور پر دیئے گئے بیانات کے بارے میں، رجانی نے سخت تنقید کی جسے انہوں نے غیر ملکی سیاسی یا مذہبی علامت کو ہندوستان کی قومی شناخت سے بالاتر رکھنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ہندوستانی شہری کو آئین، قومی پرچم اور ملک کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہئے۔یا پھر حکومت ہند انہیں اران بھیج دیں، ر ا جانی نے مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق رپورٹس پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کی رپورٹوں کے بعد ایران کے حامی کچھ سخت گیر حامیوں کی خاموشی کو دستیاب حقائق کی روشنی میں پرکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کسی بھی فرد کی حیثیت سے متعلق قیاس آرائیوں کے بجائے تصدیق شدہ معلومات کا مطالبہ کیا۔مولانا حسن علی را جانی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی بنیادی فکر ہندوستان کی قومی خودمختاری، امن عامہ اور ہندوستانی قومی پرچم کا احترام ہے۔ انہوں نے حکومت ہند پر زور دیا کہ وہ ہندوستانی پرچم سے متعلق واقعات کی تحقیقات کرے اور جہاں بھی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے وہاں کارروائی کرے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande