مکتب ولی میں تقریری مسابقہ و انعامی تقریب کا انعقاد، طالبات نے صلاحیتوں کا لوہا منوایا
نئی دہلی ،مونگیر 29اگست (ہ س )۔ مکتب ولی، حضرت گنج، خانقاہ مونگیر میں طلبہ و طالبات کی علمی، فکری اور تقریری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے مقصد سے ایک تقریری مسابقہ و انعامی اجلاس منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں جامعہ رحمانی اور مکتب ولی کے علمائ و اساتذہ
مکتب ولی میں تقریری مسابقہ و انعامی تقریب کا انعقاد، طالبات نے صلاحیتوں کا لوہا منوایا


نئی دہلی ،مونگیر 29اگست (ہ س )۔

مکتب ولی، حضرت گنج، خانقاہ مونگیر میں طلبہ و طالبات کی علمی، فکری اور تقریری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے مقصد سے ایک تقریری مسابقہ و انعامی اجلاس منعقد ہوا۔

اس پروگرام میں جامعہ رحمانی اور مکتب ولی کے علمائ و اساتذہ کرام نے شرکت کرکے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔

تقریری مسابقے میں طلبہ و طالبات نے مختلف موضوعات پر پرجوش انداز میں تقاریر پیش کیں، جن میں طالبات کی کارکردگی خاص طور پر قابلِ ذکر رہی۔ مسابقے کے موضوعات میں ولادتِ نبوی ?، پردے کی اہمیت، اخلاقِ نبوی ، فتنہ ارتداد سے تحفظ، مسلمانوں کی پستی کے اسباب اور علم کی فضیلت شامل تھے۔

نتائج کے مطابق ولادتِ نبی کے موضوع پر فلک پروین اول، عفیفہ ربانی دوم اور مفیضہ پروین سوم پوزیشن پر رہیں۔ پردے کی اہمیت کے عنوان پر عالیہ اقبال نے اول، گلناز پروین نے دوم اور چاندنی پروین نے سوم پوزیشن حاصل کی۔ اخلاقِ نبی کے موضوع پر اضحیٰ ارمان اول، ماہرہ پروین دوم اور عطیفہ پروین سوم پوزیشن کی حقدار قرار پائیں۔ فتنہ ارتداد سے کیسے بچیں کے عنوان پر رحیمہ اسلام اول رہیں، جبکہ سونم پروین اور روشن پروین بنت نے مشترکہ طور پر دوم پوزیشن حاصل کی، اور فضیلت سوم قرار پائیں۔ مسلمانوں کی پستی کے اسباب کے موضوع پر رضیہ اسلام اول، عظمیٰ پروین دوم رہیں، جبکہ ہاجرہ پروین اور رابعہ آفرین نے مشترکہ طور پر سوم پوزیشن حاصل کی۔ علم کی فضیلت کے عنوان پر محمد عیان اول، شافیہ پروین دوم اور ثناءپروین سوم پوزیشن پر رہیں۔

اسی موقع پر عربی زبان کے فروغ اور طلبہ و طالبات کی لسانی و ادبی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے خصوصی عربی پروگرام بھی منعقد ہوا، جس میں عربی بیت بازی اور مشہور عرب شاعر امرو القیس و طالبات کے درمیان عربی مکالمہ پیش کیا گیا، جسے حاضرین نے خوب سراہا۔اس پروگرام کی تیاری میں مولانا سیف اللہ ندوی صاحب فاضل جامعہ رحمانی و استاذ مکتب ولی کا اہم کردار رہا۔

مسابقے کے بعد علماء کرام نے خطاب کیا۔ جامعہ رحمانی کے شعبہ صحافت کے ایچ او ڈی جناب فضل رحمٰں رحمانی صاحب نے سیرتِ نبوی کے مختلف پہلوو¿ں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مکتب کا نظام بھی سیرتِ نبوی ہی کا ایک اہم پہلو ہے، اسی جذبے کے تحت امیرِ شریعت حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی نے مکتب ولی قائم فرمایا تھا، جس کی قیادت اب موجودہ امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر، کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکتب کے ناظم محمد شہباز رحمانی پر حضرت امیرِ شریعت نے روزِ اول جو اعتماد کیا، وہ اس پر پورے اترے ہیں اور ان کی محنت سے مکتب ولی طالبات کو ابتدائی تعلیم سے عالمیت تک دینی تعلیم فراہم کرنے والا مو¿ثر ادارہ بن چکا ہے۔

جامعہ رحمانی کے شعبہ دارالحکمت کے استاذ مولانا عبدالاحد رحمانی ازہری نے کہا کہ امیرِ شریعت? کے مقصد کو محمد شہباز رحمانی اپنی ٹیم کے ساتھ مضبوطی سے آگے بڑھا رہے ہیں اور جامعہ رحمانی کے اساتذہ مکتب ولی کی تعلیمی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

فکر و نظر ٹی وی کے کنٹینٹ ایڈیٹر حافظ شاہد رحمانی نے مکتب کے تعلیمی و تربیتی نظام کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ امیرِ شریعت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی کے مشن کے آغاز سے گواہ ہیں اور طالبات کا منجھا ہوا اندازِ تقریر اس مشن کی کامیابی کا ثبوت ہے۔

جامع مسجد مونگیر کے امام و خطیب اور مکتب ولی کے استاذ مولانا راغب رحمانی نے اپنے خطاب میں مکتب کی کامیابی اور پردے کے اہتمام کے ساتھ تعلیمِ نسواں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

اساتذہ کی خدمات کے اعتراف میں مولانا قسمت علی رحمانی، قاری ریحان اشاعتی، مولانا راغب رحمانی، مولانا انور نیازی رحمانی، مولانا انور مظاہری، مولانا ابوالحسن، مولانا سیف اللہ اور محترمہ رخسار حمیدی کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔

پروگرام میں سالانہ امتحان میں کامیاب ہونے والی طالبات کو بھی سند و اعزاز سے نوازا گیا۔ سال سوم عربی میں فضیلت بنت جناب محمد رستم صاحب اول، رضیہ اسلام بنت جناب محمد اسلام دوم اور رابعہ آفرین بنت جناب عبدالغفار صاحب سوم پوزیشن پر رہیں۔ سال دوم عربی میں ہاجرہ پروین بنت جناب رستم صاحب اول، انعم پروین بنت جناب محمد آزاد صاحب دوم اور بریرہ پروین بنت جناب محمد شمیم صاحب سوم پوزیشن کی حقدار قرار پائیں۔پروگرام کا اختتام جناب مولانا محمد راغب صاحب رحمانی کی دعا کے ساتھ ہوا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande