غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سمینار ’فراق گورکھ پوری: شخصیت اور ادبی میراث‘ کا اختتام پذیر
نئی دہلی ،29اگست (ہ س )۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سمینار ’فراق گورکھ پوری: شخصیت اور ادبی میراث‘ اختتام پذیر ہوا۔20اکتوبر کو سمینار کے چار تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے۔ پہلے اجلاس کی صدارت شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدر پروف
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سمینار ’فراق گورکھ پوری: شخصیت اور ادبی میراث‘ کا اختتام پذیر


نئی دہلی ،29اگست (ہ س )۔

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سمینار ’فراق گورکھ پوری: شخصیت اور ادبی میراث‘ اختتام پذیر ہوا۔20اکتوبر کو سمینار کے چار تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے۔ پہلے اجلاس کی صدارت شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدر پروفیسر شہپر رسول نے کی۔ صدارتی تقریر میں انہوں نے کہافراق گورکھپوری نے اردو کی شعری روایت میں نئے پہلو واکےے۔ شاعری میں استعارہ سازی کا عمل شاعر کا امتحانی مرحلہ ہوتاہے اور فراق کی شاعری میں یہی پہلو سب سے زیادہ متاثر کرتاہے۔ انہوں نے اردو شاعری کو نئے استعاروں سے روشناس کیا۔ اس اجلاس میں پروفیسر خالد اشرف نے کہا’فراق اور پریم چند‘، پروفیسر ندیم احمد ’فراق اور ٹیگور‘، ڈاکٹر عادل حیات نے ’فراق کی نظم نگاری‘، ڈاکٹر محمد آدم نے ’فراق کی مکتوب نگاری‘، ڈاکٹر سفینہ نے ’فراق کی رباعی گوئی‘ اور ڈاکٹر عالیہ نے فراق کی شاعری کے امتیازات کے عنوان سے مقالے پیش کےے۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر ثاقب فریدی نے کی۔دوسرے اجلاس کی صدات سابق صدر شعبہ ¿ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر پروفیسر خالد محمود نے کی۔ صدارتی تقریر کے دوران انہوں نے کہاکہ فراق کو اردو شاعری سے یہ شکوہ تھاکہ اردو میں عربی فارسی تہذیب کے عناصر تو خوب ہیں لیکن ہندوستانی عناصرکی کمی ہے۔ اس کمی کو ا نہوں نے ہندستانی عناصر کی شمولیت سے پورا کیا۔انہوں نے نہایت تخلیقی انداز میں ہندستانی عناصر کو شاعری میں برتاہے۔ اس اجلاس میں پروفیسر صغیر افراہیم نے ’فراق کی نثر:ان کے مضمون’غالب پھر دنیا میں‘ کے خصوصی حوالے سے‘ ، پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی نے ’فراق بحیثیت تاثراتی نقاد‘ اور ڈاکٹر عادل حیات نے ’فراق کی نظم نگاری‘ کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر نوشاد منظر نے کی۔ تیسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر جتندر سری واستو نے کی۔ انہوں نے کہا شاعری کا امتیاز یہ نہیں ہے کہ اس پر کتنا زمانہ بیت گیابلکہ شاعری کا امتیازیہ ہے کہ گزرتے ہوئے زمانے کا ساتھ وہ کس طرح دیتا ہے۔ ہمیں آج بھی کبیر کی یاد کیوں آتی ہے۔ شاعر کا اپنے کلچر سے جڑنا کوئی برائی نہیں ہے بلکہ یہ تو شاعری کی خوبی ہے کہ اس میں اصل کلچر کی نمود ہو۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر عبدالعزیز نے ’فراق کی غزل تنقید‘، ڈاکٹر نور فاطمہ نے ’اردو کی عشقیہ شاعری اور فراق‘، ڈاکٹر سرفراز جاوید نے ’فراق کی غزلوں میں ہندستانی جمالیات‘ اور ڈاکٹر سیمیں فلک نے ’شمیم حنفی کی فراق شناسی‘ کے عنوان سے مقالے پیش کےے۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر جاوید حسن نے کی۔ چوتھے اور آخر اجلاس کی صدارت پروفیسر عبدال بسم اللہ نے کی۔ صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا’فراق نے اردو اور ہندی شاعری کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے امراو ¿ جان ادا‘ کا ہندی ترجمہ کیااور ان کی شاعری ہندی حلقو میں بھی خوب مقبول ہوئی۔ اس طرح وہ پوری ہندتانی تہذیب کی علامت بن گئے۔ اس اجلاس میں پروفیسر ارشاد نیازی نے ’فراق کا انداز نقد‘، ڈاکٹر معید رشیدی نے ’ بیسویں صدی میں غزل کا مقدمہ اور فراق‘، ڈاکٹر سلمان فیصل نے ’رباعیات فراق میں ہندستانی عورت‘ اور جناب امام الدین نے ’باقیات فراق کی ایک جھلک‘ کے عنوان سے مقالے پیش کےے۔ اس اجلاس کی نظامت جناب فیصل خان نے کی۔ سمینار کے اختتام پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande