نیپال: بھوٹے کوسی ندی کے اوپر تبت کے لھینڈے میں بنی دوسری جھیل اوورفلو
کاٹھمنڈو، 28 اگست (ہ س)۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے دوچار نیپال کے لیے قدرتی آفت کی ایک نئی دستک نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ رسواگڑھی میں بھوٹے کوسی ندی کے اوپر لھینڈے ندی پر ایک اور بڑی جھیل بن جانے سے بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ یہ جھیل عین اس م
نیپال: بھوٹے کوشی ندی کے اوپر تبت کے لھینڈے میں بنی دوسری جھیل اوورفلو


کاٹھمنڈو، 28 اگست (ہ س)۔

سیلاب کی تباہ کاریوں سے دوچار نیپال کے لیے قدرتی آفت کی ایک نئی دستک نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ رسواگڑھی میں بھوٹے کوسی ندی کے اوپر لھینڈے ندی پر ایک اور بڑی جھیل بن جانے سے بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ یہ جھیل عین اس مقام کے اوپری حصے میں بنی ہے جہاں بدھ کے روز اچانک سیلاب آیا تھا۔ چین کے سرکاری میڈیا سی سی ٹی وی نے بننے والی اس جھیل کی ویڈیو نشر کی ہے۔ چین نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ نیپال-تبت سرحد کے قریب حالیہ لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی اس جھیل کے کنارے کسی بھی وقت ٹوٹ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک بار پھر نچلے علاقوں میں سیلاب آ سکتا ہے۔

نیپال کے انگریزی اخبار دی ہمالین اور چین کیژنہوا کی رپورٹوں میں یہ اطلاع دی گئی ہے۔ ان کے مطابق چین کے سرکاری براڈکاسٹر نے بتایا کہ جمعہ کی صبح تک اس جھیل میں تقریباً 25 لاکھ (2.5 ملین) مکعب میٹر پانی جمع ہو چکا تھا۔ ایک مکعب میٹر 1,000 لیٹر پانی کے برابر ہوتا ہے۔ ایک معیاری اولمپک سوئمنگ پول میں تقریباً 25 لاکھ لیٹر پانی آتا ہے۔ اس حساب سے 25 لاکھ مکعب میٹر پانی سے تقریباً 1,000 اولمپک سوئمنگ پول مکمل طور پر بھرے جا سکتے ہیں۔

بھاری ملبے کی وجہ سے لھینڈے ندی کا بہاو¿ رک گیا ہے۔ ویک اینڈ کے دوران جھیل میں مزید 30 لاکھ (3 ملین) مکعب میٹر پانی آنے کی توقع ہے۔ چین کی وزارتِ آبی وسائل کے مطابق یہ جھیل اوورفلو ہو چکی ہے۔ علاقے میں شدید بارش ہو رہی ہے اور یہ جھیل کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے۔ لھینڈے ندی (لھینڈے کھولا یا لھینڈے دھارا) کا منبع تبت (چین) کے پہاڑی علاقے میں ہے۔

یہ ندی نیپال-چین سرحد کے قریب رسواگڑھی میں آ کر بھوٹے کوسی ندی میں مل جاتی ہے۔ یہ بھوٹے کوسی کی معاون ندی ہے۔ لھینڈے اور بھوٹے کوسی ندیوں کا یہ علاقہ ہندوستان، نیپال اور چین کے درمیان صدیوں پرانے ہمالیائی تجارتی راستے (کیرو±نگ-رسواگڑھی ناکہ) کا اہم حصہ ہے۔ لھینڈے کے پانی کے سیلاب سے بھوٹے کوسی میں آنے والے اچانک سیلاب نے جو تباہی مچائی، اس کی تکلیف نیپال کے رسوا، نواکوٹ اور دھادِنگ سمیت کئی اضلاع کے لوگوں کے چہروں پر صاف دیکھی جا سکتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اس کی وجہ چین-نیپال سرحد پر واقع گلیشیئر زون سے برف اور چٹانوں کے بڑے بڑے حصوں کا ٹوٹ کر براہِ راست لھینڈے کھولا میں گرنا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اس کے نتیجے میں کھولا کا بہاو¿ تبدیل ہوا اور وہاں ایک عارضی قدرتی جھیل بن گئی۔ اس جھیل میں آہستہ آہستہ پانی جمع ہوتا رہا۔

26 اگست کو جغرافیائی ہلچل کے باعث گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر اس میں آ گرا اور جھیل پھٹ گئی۔ کیچڑ، پتھروں اور ملبے کے ساتھ زبردست سیلاب نچلے علاقوں کی جانب بڑھ گیا۔ اس سے بھوٹے کوسی ندی کا بہاو¿ انتہائی خطرناک ہو گیا۔ یہ سیلاب رسواگڑھی سرحدی چوکی، سڑکوں، پن بجلی کے منصوبوں اور متعدد دیہات کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ نیپال اور چین کے حکام لھینڈے ندی کے بالائی علاقوں پر سیٹلائٹ کے ذریعے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande