
کولکاتا، 28 اگست (ہ س)۔ ترنمول چھاتر پریشد کے یوم تاسیس کے موقع پر جمعہ کو کیتھیڈرل روڈ پر منعقدہ ایک ریلی میں ممتا بنرجی کے پہنچتے ہی اچانک افرا تفری کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ پنڈال میں موجود ہجوم ن بیریکیڈ ہٹاکر اسٹیج کی طرف بڑھنے لگا۔ اس دوران کئی گاڑیاں بھی پنڈال میں گھس گئیں جس سے ٹریفک میں خلل پڑا اور ایک ایمبولینس بھی پھنس گئی۔
ممتا بنرجی دوپہر ایک بجے کے قریب جلسہ گاہ پر پہنچیں۔ جیسے ہی وہ پہنچیں، وہاں جمع ہزاروں کارکن اسٹیج کی طرف بڑھنے لگے۔ ہجوم کے بڑھنے کی وجہ سے گارڈریلہٹ گئے، جس سے جلسہ گاہ میں افراتفری پھیل گئی۔ کئی گاڑیاں جلسہ گاہ کے راستے میں آگئیں۔
ممتا بنرجی نے خود کھڑے ہوکر ان گاڑیوں کو وہاں سے نکالنے اور راستہ صاف کرانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی بھی اپیل کی۔ ترنمول کانگریس کے سربراہ نے ریلی کے دوران اسٹیج سے پولیس کو بھی نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ انہوں جلسہ گاہ میں گاڑیوں کو آنے دیا۔
انہوں نے اجلاس کو عارضی طور پر روکنے کی بات کہ ۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ جلسہ گاہ کے ارد گرد پھنسی ہوئے تمام گاڑیوں کو پہلے ہٹایا جائے اور پھر جب سڑک مکمل طور پر کارکنوں کے کنٹرول میں آجائے تو ریلی دوبارہ شروع کی جائے۔ جس کے بعد پولیس کی موجودگی میں گاڑیوں کو آہستہ آہستہ ہٹایا گیا۔ ترنمول کے کئی کارکنان بھی گاڑیوں کا راستہ صاف کرنے میں مدد کرتے ہوئے دیکھے گئے۔
صورتحال معمول پر آنے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔ ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے اس کے بعد اجتماع سے خطاب کیا۔دراصل، ابتدائی طور پر ترنمول چھاتر پریشد کے یوم تاسیس پر میو روڈ پر ریلی کے لیے اجازت مانگی گئی تھی، لیکن اجازت نہیں دی گئی۔ کلکتہ ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد کیتھیڈرل روڈ پر ریلی منعقد ہوئی۔ عدالتی حکم کے مطابق اجلاس سہ پہر تین بجے تک ختم ہونا تھا۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد