
علی گڑھ, 27 اگست (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی راج بھاشا (ہندی) نفاذ کمیٹی کی سہ ماہی میٹنگ میں یونیورسٹی میں ہندی کے استعمال کی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے راج بھاشا ایکٹ 1963 اور راج بھاشا ضوابط 1976 کے زیادہ مؤثر نفاذ کے اقدامات پر غور و خوض کیا گیا۔
میٹنگ کی صدارت اے ایم یو وائس چانسلر اور کمیٹی کی چیئرپرسن پروفیسر نعیمہ خاتون نے کی۔ شعبہ ہندی کے چیئرمین پروفیسر معراج احمد کمیٹی کے سکریٹری ہیں۔ میٹنگ میں رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر، کنٹرولر امتحانات پروفیسر مجیب اللہ زبیری، ڈی ایس ڈبلیو پروفیسر اطہر انصاری، فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین کے نمائندے پروفیسر محمد سمیع اختر، فنانس آفیسر جناب نورالسلام، ہندی آفیسر جناب اسد اللہ خاں اور رابطہ عامہ افسر مسٹر عمر پیرزادہ موجود تھے۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر نعیمہ خاتون نے ہندی ٹائپنگ اور ہندی کی تکنیکی و انتظامی اصطلاحات کے سلسلے میں باقاعدگی سے تربیتی پروگرام اور ورکشاپ منعقد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ذو لسانی نام کی تختی، سائن بورڈ، لیٹر ہیڈ، فارم اور دیگر سرکاری مواد کو معیاری بنانے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
کمیٹی کو ہندی سیل کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا گیا، جن میں یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات اور دفاتر میں بیداری اور رسائی کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ میٹنگ میں اہم فارموں اور خاکوں کو ذو لسانی بنانے کی سمت پیش رفت، 14 جولائی 2026 کو منعقدہ راج بھاشا ورکشاپ، جس میں 80 سے زائد ملازمین نے شرکت کی، اور 10 تا 14 اگست منعقد ہونے والے پانچ روزہ ہندی ٹائپنگ تربیتی پروگرام کی بھی اطلاع دی گئی، جس میں 17 ملازمین نے شرکت کی۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ