

کاٹھمانڈو، 27 اگست (ہ س)۔ نیپال کے رسوا اور آس پاس کے علاقوں میں بھوٹے کوشی ندی میں بدھ کی صبح اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب میں اب تک کم از کم 157 افراد کی موت ہو گئی اور تقریباً 700 لوگ لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں غیر ملکی شہری اور سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ سیلاب نے تین اضلاع میں زبردست تباہی مچائی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس تباہ کن سیلاب کی نذر لوگ، مکانات، گاڑیاں اور ضروری بنیادی ڈھانچہ وغیرہ ہو گئے۔ اسے حالیہ برسوں میں نیپال کی سب سے مہلک آبی آفت کہا جا رہا ہے۔ نیپال پولیس کی ایکس پوسٹ میں دیر رات کیے گئے رسوا ضلع کے سیلاب اپ ڈیٹ میں ہلاک شدگان کی تعداد 157 ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس سیلاب میں لقمہ اجل بننے والے افراد کی لاشیں نیپال کے چین کے سرحدی اضلاع سے لے کر ہندوستانی سرحد سے متصل علاقوں تک میں ملی ہیں۔ حکومت کی جانب سے نیپال پولیس کے اپ ڈیٹ جاری کرنے سے قبل دیے گئے بیان کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ رسوا ضلع میں صرف ایک لاش اور ہندوستانی سرحد سے متصل چتون کی نارائنی ندی سے 64 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ گورکھا ضلع سے 19، دھادنگ ضلع سے 18، نواکوٹ سے 11، تنہو سے نو نیز نول پراسی ضلع سے ایک لاش برآمد ہوئی ہے۔ نول پراسی بھی ہندوستان کی سرحد سے متصل علاقہ ہے۔
اب تک 245 مقامی افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع متعلقہ ضلع انتظامیہ کے دفاتر سے موصول ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ نیپال پولیس کے 26 جوان، نیپالی فوج کے 22 جوان اور مسلح پولیس فورس کے 13 جوان لاپتہ ہو گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کل 384 سیاحوں سے بھی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ نیپال ٹورزم بورڈ کے مطابق، لاپتہ سیاحوں میں 139 ہندوستانی شامل ہیں۔ 37 ہندوستانی نژاد این آر آئی بھی لاپتہ بتائے گئے ہیں۔
نیپال پولیس کے مطابق، اب تک 81 زخمیوں کو اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان تمام کا کاٹھمانڈو اور آس پاس کے اضلاع کے اسپتالوں میں علاج کیا جا رہا ہے۔ بچاو مہم کے دوران اب تک 216 لوگوں کو زندہ بچایا گیا ہے۔ ان میں 123 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اور 93 افراد کو زمینی راستے سے بحفاظت نکالا گیا۔
سیلاب کی وجہ سے کئی علاقوں کا ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 35 پل اور 45 سسپنشن برج بہہ گئے ہیں۔ اس سے کئی علاقوں کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ اسی طرح 40 کلومیٹر تک کی ہائی وے بھی سیلاب کی زد میں آ گئی ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق صورتحال اب بھی سنگین ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن