چرواہوں کو مستفیدین نہیں ، محافظ سمجھتے ہوئے چراگاہوں کی بحالی کی جائے : بھوپیندر یادو
نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔ مرکزی ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر بھوپیندر یادو نے اولان باتور میں اقوام متحدہ کے صحرائی علاقوں کے پھیلاو کی روک تھام کے کنونشن (یو این سی سی ڈی ) کے شراکت داروں کے 17ویں اجلاس (سی او پی -17) میں چراگاہوں ک
UNCCD-COP17-BHUPENDER-YADAV-CHARAGAH


نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔ مرکزی ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر بھوپیندر یادو نے اولان باتور میں اقوام متحدہ کے صحرائی علاقوں کے پھیلاو کی روک تھام کے کنونشن (یو این سی سی ڈی ) کے شراکت داروں کے 17ویں اجلاس (سی او پی -17) میں چراگاہوں کے علاقوں کی بحالی میں مقامی برادریوں کی شرکت کو مرکزی اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب بحالی کا آغاز چرواہوں کو محض مستفیدین سمجھنے کے بجائے انہیں قدرتی وسائل کے محافظ تسلیم کرنے سے ہوتا ہے۔

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی مرکزی وزارت کے مطابق، یو این سی سی ڈی سی او پی-17 کے دوران ”چراگاہی علاقوںکی بحالی اور چرواہ برادریوں کی فلاح و بہبود“ پر وزارتی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے جناب یادو نے کہا کہ ہندوستان نے سائنسی منصوبہ بندی اورلوگوں کی شراکت داری کے ذریعے گھاس کے میدانوں اور چراگاہوں کے تحفظ اور بحالی میں تجربہ حاصل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں چراگاہی علاقہ میں ہمالیائی چراگاہوں، وسطی ہندوستان کے سوانا علاقوں، راجستھان کے خشکتھار اور کچھ کے علاقوں سے لے کر جنوبی ہندوستان کے شولا علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ علاقے ملک کی بڑی مویشیوں کی آبادی کے چراگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی کی بنیاد ہیں۔

جناب یادو نے کہا کہ روایتی علم کو جدید سائنس کے ساتھ جوڑ کر اس طرح بحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے جو ماحولیاتی لحاظ سے پائیدار، اقتصادی طور پر قابل عمل اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ہو۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سیٹلائٹ پر مبنی صحرا کے پھیلاو اور زمین کے انحطاط کے اٹلس گھاس کے میدانوں کی شناخت اور سائنسی بحالی کے منصوبے تیار کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔ چرنے کے حقوق اور کمیونٹی جنگلاتی وسائل کے حقوق کو تسلیم کرنے سے مقامی برادریوں کے کردار کو مضبوطی ملتی ہے۔

مرکزی وزیر نے راجستھان کے ’اورن‘ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگلاتی علاقے مقامی برادریوں کے روایتی تحفظاتی نظام کی ایک اہم مثال ہیں۔ ملک بھر میں اس طرح کے تقریباً 25 ہزار اجتماعی طور پر محفوظ جنگلاتی علاقے موجود ہیں، جو تقریباً چھ لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر محیط ہیں۔ یہ علاقے مقامی برادریوں کی شرکت سے محفوظ رکھے جاتے ہیں اور چراگاہوں کے ساتھ ساتھ جنگلی حیاتیات کے اہم مسکن کے تحفظ میں بھی معاون ہیں۔ ان میںگریٹ انڈین بسٹرڈ جیسے کمیاب نسل کے پرندوں کے اہم مسکن بھی شامل ہیں۔

یادو نے کہا کہ ہندوستان کھلے جنگلات اور گھاس کے میدانوں پر مشتمل ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔ انہوں نے چیتا بحالی پروگرام اور گجرات کے بنّی جیسے گھاس کے علاقوں تک اس کے ممکنہ توسیعی منصوبے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گہری جڑوں والی گھاسیں مٹی میں کاربن ذخیرہ کرنے، پانی کو زمین میں جذب ہونے دینے اور زیر زمین پانی کی سطح کو دوبارہ بھرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ہندوستان میں تقریباً ایک کروڑ ہیکٹیئر مستقل چراگاہ اور چراگاہی زمین موجود ہے۔

یادو نے کہا کہ ہندوستان کا نقطہ نظر صرف زمین کی بحالی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں زمینی منظرنامے کے انتظام، آبی ذخیرہ گاہوں کی ترقی، پائیدار چراگاہ ، چارے کی پیداوار اور روزگار و ذریعہ¿ معاش کی معاونت کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس پورے نظام کے مرکز میں مقامی برادریوں کی شراکت داری شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ترقی پذیر ممالک زمینی انحطاط کو غیر مو¿ثر بنانے کے ہدف کی سمت آگے بڑھ رہے ہیں تو چراگاہی علاقوں کی بحالی کے لیے مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور علم تک بہتر رسائی ضروری ہے۔ ہندوستان نے چراگاہی علاقوں کی بحالی کے لیے مخصوص اور آسانی سے دستیاب مالی وسائل فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جنوب-جنوب تعاون کے ذریعے اپنے تجربات اور حل دیگر ممالک کے ساتھ بانٹنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande