
موہالی، 26 اگست (ہ س)۔ پنجاب میں شمبھو ریلوے ٹریک پر آئی ای ڈی دھماکے کے بعد برآمد ہونے والی لاش کی شناخت کے لئے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) اب جگروپ سنگھ عرف جوپا کے خاندان کے افراد سے ڈی این اے کے نمونے جمع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کا مقصد سرکاری طور پر جائے وقوعہ سے برآمد ہونے والی لاش کی شناخت کی تصدیق کرنا ہے کہ کیاوہ واقعی جگروپ سنگھ کی تھی ۔
این آئی اے نے جگروپ سنگھ کی ماں بلویندر کور اور بھائی ستنام سنگھ سے ڈی این اے کے نمونے حاصل کرنے کے لیے خصوصی این آئی اے عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔ کیس کی سماعت ستمبر کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے۔ اس کے بعد عدالت کے حکم پر ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
پولیس کے مطابق، 27 اپریل کی رات 8:23 اور 8:30 کے درمیان، پنجاب کے پٹیالہ ضلع میں راج پورہ اور شمبھو ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور (مال بردار ریل پٹری) پر ایک آئی ای ڈی دھماکہ ہوا۔ تاہم، دھماکے میں کسی ٹرین کو نقصان نہیں پہنچا۔ دھماکے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ سے ایک موبائل فون، سم کارڈ اور دیگر تکنیکی شواہد برآمد کر لیے۔ اس کے علاوہ، سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے، پولیس نے متوفی کی شناخت جگروپ سنگھ کے طور پر کی ہے، جو ترن تارن ضلع کے پنجوار کا رہنے والا ہے۔ دھماکے میں اس کا جسم بری طرح مسخ ہوگیا اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بکھر گیا۔
تفتیش کے دوران، جگروپ سنگھ کے موبائل فون اور اس سے کی گئی کالوں کی بنیاد پر، پولیس نے کیس میں ملوث دیگر مشتبہ افراد کا سراغ لگایا اور کچھ ملزمان کو گرفتار کیا۔ تاہم اب باضابطہ طور پر لاش کی شناخت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ شروع کیا جا رہا ہے۔ این آئی اے حکام کے مطابق، اگر ڈی این اے ٹیسٹنگ جگروپ سنگھ کی ماں اور بھائی کے ڈی این اے سے میل کھاتا ہے، تو اس سے مقتول کی شناخت کی سرکاری طور پر تصدیق ہو جائے گی۔ جس کے بعد اس کے خلاف کیس بند کرنے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اگر ڈی این اے میچ نہیں کرتا ہے تو این آئی اے تحقیقات کا ایک نیا راستہ کھولے گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس کی لاش برآمد ہوئی اور جگروپ سنگھ کے ساتھ کیا ہوا۔ فی الحال، این آئی اے نے عدالت میں ایک درخواست داخل کی ہے اور ستمبر کے پہلے ہفتے میں ہونے والی سماعت کے بعد اس معاملے میں اگلے اقدامات واضح ہو سکیںگے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد