خاندان مضبوط ہوگا تو ملت مضبوط ہوگی:جمعیۃ علماء ہند
صوبائی نظمائے اصلاحِ معاشرہ کے تربیتی ورکشاپ سے صدرجمعیة علماءہند مولانا محمود اسعد مدنی کا خطاب۔کہا کہ اصلاحِ معاشرہ کو منظم تحریک اور مشن بنا کر آگے بڑھایا جائے۔ نئی دہلی:26 اگست (ہ س )۔ جمعیة علماء ہند کے مرکزی دفتر مدنی ہال میںجمعیة علماءہند
خاندان مضبوط ہوگا تو ملت مضبوط ہوگی


صوبائی نظمائے اصلاحِ معاشرہ کے تربیتی ورکشاپ سے صدرجمعیة علماءہند مولانا محمود اسعد مدنی کا خطاب۔کہا کہ اصلاحِ معاشرہ کو منظم تحریک اور مشن بنا کر آگے بڑھایا جائے۔

نئی دہلی:26 اگست (ہ س )۔

جمعیة علماء ہند کے مرکزی دفتر مدنی ہال میںجمعیة علماءہند کے صوبائی نظمائے اصلاحِ معاشرہ اور معاونین کے چار روزہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمعیة علماءہند مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ مسائل کا پائیدار حل محض بیرونی حالات اور سیاسی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے میں نہیں بلکہ معاشرے کی اندرونی مضبوطی، خاندانی نظام کے تحفظ، دینی تربیت اور نئی نسل کی دینی وابستگی میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اصلاحِ معاشرہ کے کام کو محض انفرادی کوششوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک منظم تحریک کی شکل دینےاور واضح ترجیحات متعین کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا مدنی نے خاص طو رپر کہا کہ معاشرے کی مضبوطی کا نقطہ¿ آغاز خاندان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا طویل مدتی ہدف یہ ہونا چاہیے کہ خاندان اور اہل و عیال کے لئے ایسا دینی ماحول پیدا کریں جہاں مکتب کا بنیادی نظام خود گھروں اور محلوں میں پروان چڑھے۔مولانا مدنی نے کہ ایک وقت تھا جب مائیں، دادی اور نانیاں اپنے گھروں میں بچوں وبچیوں کو قرآن کریم اور قاعدہ پڑھایا کرتی تھیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس دینی ماحول کو نئے انداز میں دوبارہ زندہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیے اصلاحِ معاشرہ کے وسیع تر پروگرام میں خاندانی اصلاح کو بنیادی ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں مولانا مفتی اشفاق قاضی، ممبئی کے ذریعہ فیملی کاو¿نسلنگ کے موضوع پر پیش کردہ پریزنٹیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میاں بیوی کے درمیان اختلاف کی صورت میں علماء اور ائمہ کے پاس اختلافات کو حکمت و بصیرت کے ساتھ حل کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ ہر بستی میں ایسے فکر مند اور تربیت یافتہ افراد موجود ہوں جو ٹوٹتے ہوئے خاندانوں کو سنبھال سکیں اور زوجین کی مو¿ثر رہنمائی کریں۔

مولانا مدنی نے کہا کہ خاندان کو ٹوٹنے سے بچانا صرف ایک گھر کو بچانا نہیں بلکہ نسلوں کو بچانا ہے۔ اگر مقصد صرف میاں بیوی کے درمیان اختلاف ختم کرانا ہو تو بھی یہ ایک بڑی خدمت ہے، لیکن اگر اس کوشش کے ساتھ نئی نسل کو دینی کمزوری سے محفوظ رکھنے اور ملت کی وحدت کو مضبوط کرنے کا مقصد شامل ہوجائے تو یہ دین کی بڑی خدمت ہوگی۔

اصلاحِ معاشرہ کے طریقہ کار پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ کوئی بھی بڑا اور دیرپا کام محض وقتی سرگرمیوں سے کامیاب نہیں ہوتا۔ اس لیے اصلاحِ معاشرہ کو بھی ایک منظم، مسلسل اور نتیجہ خیز تحریک بنانا ہوگا، جس کے لیے واضح ترجیحات، تربیت یافتہ کارکنان، مستقل رابطہ، مو¿ثر منصوبہ بندی اور جہدِ مسلسل ناگزیر ہیں۔انہوں نے نظمائے اصلاح معاشرہ سے کہا کہ جب انسان کسی کام کو اخلاص کے ساتھ اپنے اوپر اوڑھ لیتا ہے اور مسلسل جدوجہد میں خود کو کھپا دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا اسے پہلے سے اندازہ بھی نہیں ہوتا اور ایسے مخلص ساتھی بھی عطا فرماتا ہے جن کا اس نے کبھی تصور نہیں کیا ہوتا۔اس لیے آپ کام شروع کریں ، قافلہ بفضلہ تعالی بنے گا۔

واضح رہے کہ یہ چار روزہ تربیتی ورکشاپ 24 اگست سے جاری ہے، جس میں معروف موٹیویشنل اسپیکر مولانا ساجد فلاحی، فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے ڈائریکٹر مولانا مفتی اشفاق قاضی، ناظمِ تنظیم جمعیة علماءہند (جنوب) مولانا محمد عمر بنگلوری اور ناظمِ تحفظِ سنت صوبہ کرناٹک مولانا مفتی زاہد عیسیٰ قاسمی نے مختلف موضوعات پر اہم اور مفید پرزنٹیشن پیش کی۔ جبکہ مولانا سلمان بجنوری (نائب صدر جمعی? علماء ہندو استاذ دارالعلوم دیوبند) اور مولانا حکیم الدین صاحب (ناظمِ عمومی جمعیة علماء ہند) نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔شعبہ اصلاحِ معاشرہ کے ذمہ داران مولانا محمد معظم عارفی اور مولانا عبدالعلی نے بتایا کہ یہ تربیتی پروگرام 27 اگست کو مکمل ہوگا۔ ورکشاپ میں اس وقت جمعیة علماءہند کی 20ریاستی یونٹوں کے 55 نظمائے اصلاحِ معاشرہ اور معاونین شریک ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande