
معاف کرنا ہی طاقت کی سب سے بڑی کسوٹی ہے: وجیندر گپتا
نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔
دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے بدھ کے روز باڑہ ہندو راؤ میں عید میلاد النبیؐ کے موقع پر منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’طاقت کا امتحان صرف سزا دینے کی صلاحیت سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کی سب سے بڑی کسوٹی یہ ہے کہ بدلہ لینے کی مکمل قدرت ہونے کے باوجود انسان معاف کرنے کا راستہ اختیار کرے۔‘‘
پیغمبر محمد ؐکی حیاتِ مبارکہ کا ذکر کرتے ہوئے وجیندر گپتا نے کہا کہ آپ کی زندگی سچائی، دیانت داری، شفقت، صبر اور درگزر کا ابدی پیغام دیتی ہے۔ انہوں نے پیغمبر محمدؐ پر کیے جانے والے مظالم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پر پتھر تک برسائے گئے، لیکن بعد میں جب فتح مکہ کا موقع آیا، تب آپ کے پاس بدلہ لینے کا پورا اختیار اور قدرت حاصل تھی۔ اس کے باوجود آپ نے عفو و درگزر کا راستہ اپنایا۔ گپتا نے کہا کہ وہ انتقام لے سکتے تھے، اپنی قوت کا استعمال کر سکتے تھے اور پرانے حساب چکا سکتے تھے، لیکن انہوں نے معاف کرنے کو ترجیح دی۔
اسمبلی اسپیکر نے کہا کہ پیغمبر محمدؐ اپنی امانت داری اور صداقت کے لیے اس قدر معروف تھے کہ آپ کے مخالفین بھی اپنی امانتیں محفوظ رکھنے کے لیے آپ کے پاس ہی رکھوایا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پیغمبر محمدؐ کی تعلیمات سماج کو کمزوروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے، بے سہاروں کا سہارا بننے، خواتین اور بے آسرا افراد کی نگہداشت کرنے اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کی واضح ذمہ داری سونپتی ہیں۔
وجیندر گپتا نے کہا کہ اگر ہم نے کھانا کھا لیا اور ہمارا پڑوسی بھوکا سو گیا، تو ہماری ذمہ داری پوری نہیں ہوئی۔ انہوں نے اس جذبے کو بھی یاد کیا کہ کسی روتے ہوئے شخص کے چہرے پر مسکراہٹ لانا بھی انسانی خدمت کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے انسان کی خدمت کرنا بذاتِ خود ایک گہرا اخلاقی فریضہ ہے۔
وجیندر گپتا نے کہا کہ عید میلاد النبی کی اہمیت صرف یاد منانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ خود احتسابی کا بھی موقع ہے کہ پیغمبر کے بتائے ہوئے اصول ہماری روزمرہ کی زندگی میں کتنے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم صبر، سچائی اور کمزوروں کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں پیغمبر محمد کے دکھائے ہوئے راستے کو یاد رکھنا چاہیے۔
دہلی کی گنگا جمنی تہذیب اور سماجی ہم آہنگی کا تذکرہ کرتے ہوئے اسمبلی اسپیکر نے کہا کہ یہ دہلی کا اصل چہرہ اور ہمارے شہر کا پیغام بھی ہے۔ یہاں ایک طرف اذان کی آواز سنائی دیتی ہے اور نماز ادا کی جاتی ہے، تو وہیں پاس ہی مندر کی گھنٹیاں بھی گونجتی ہیں۔ عید پر ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی جاتی ہے، مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں اور یہی اپنائیت دیوالی کے موقع پر بھی نظر آتی ہے۔ یہی ہماری ثقافت، ہمارے سنسکار اور ہماری تہذیب ہے۔
اس موقع پر بلّی ماران اسمبلی حلقے کے رکن اسمبلی عمران حسین اور آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے چیف امام ڈاکٹر عمیر احمد الیاسی بھی موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن