
علی گڑھ, 26 اگست (ہ س)۔
درگاہ شمس العارفین شاہ جمال کا چار روزہ 764واں سالانہ عرسِ مبارک آج اختتام پذیر ہوگیا۔ چاروں روز درگاہ پر عقیدت مندوں اور زائرین کی بڑی تعداد موجود رہی اور مختلف مذہبی و روحانی پروگرام منعقد کیے گئے۔عرس کے پہلے روز میلاد شریف کی مجلس منعقد ہوئی، جبکہ دوسرے اور تیسرے روز شب میں محفلِ سماع کا اہتمام کیا گیا، جس میں معروف قوالوں نے اپنے کلام پیش کیے۔ اس موقع پر شمیم انور شاہد قوال، نعیم قوال صابری، ضمیر قوال، سمیر قوال اور جہانگیرپور، نوئیڈا سے تعلق رکھنے والے دیگر معروف قوالوں نے شرکت کی۔
عرس کے آخری روز کُل شریف کی مجلس منعقد ہوئی، جس کے بعد تقریب کا اختتام تقریباً 1 بج کر 20 منٹ پر رنگ پیش کیے جانے کے ساتھ ہوا۔ فاتحہ نوید اقبال سجادہ نشین نے کرائی۔ اس موقع پر ملک و قوم میں امن، خوشحالی اور بھائی چارے کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔
عرس کے چاروں روز ہزاروں زائرین کے لیے لنگر کا انتظام کیا گیا۔ منتظمین کے مطابق لنگر کا یہ انتظام ہر سال اہلِ خیر اور لوگوں کے باہمی تعاون سے کیا جاتا ہے، جس میں مختلف افراد بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
اس موقع پر وقف 63 کمیٹی کے سکریٹری معین الدین مونو نے عرس کمیٹی کے بھورا بھارتی، ایوب چودھری، عمران بلٹو، اکرام قریشی سمیت تمام خدام کو کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے عرس میں بڑی تعداد میں شرکت کرنے والے ہزاروں زائرین کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ زائرین نے پورے عرس کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا۔
عرس کے موقع پر منتظمین نے کہا کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات محبت، انسانیت، بھائی چارے، امن اور خدمتِ خلق کا درس دیتی ہیں۔ عرس جیسے روحانی اجتماعات کا مقصد بزرگوں کی تعلیمات کو یاد کرنا اور ان کے پیغام کو معاشرے تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے زائرین سے اپیل کی کہ وہ درگاہ کی روحانی روایات کے ساتھ ساتھ باہمی محبت، رواداری اور امن کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں بھی اختیار کریں۔
چار روزہ عرسِ مبارک کے اختتام کے ساتھ درگاہ پر منعقد ہونے والی تمام تقریبات مکمل ہوگئیں اور زائرین نے عقیدت و احترام کے ساتھ واپسی کا رخ کیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ