دہلی ریس کلب کو 15 دن میں خالی کرنا ہوگا، عدالت نے بالآخر فیصلہ سنا دیا
نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔ دہلی ریس کلب کو 15 دن کے اندر خالی کرنا ہوگا، کیونکہ پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پیتمبر دت نے اسٹیٹ آفیسر کے 11 اگست کو جاری کیے گئے خالی کرنے کے حکم پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ اسٹیٹ آ
دہلی ریس کلب کو 15 دن میں خالی کرنا ہوگا، عدالت نے بالآخر فیصلہ سنا دیا


نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔ دہلی ریس کلب کو 15 دن کے اندر خالی کرنا ہوگا، کیونکہ پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پیتمبر دت نے اسٹیٹ آفیسر کے 11 اگست کو جاری کیے گئے خالی کرنے کے حکم پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ اسٹیٹ آفیسر نے دہلی ریس کلب کو اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع دیا، لیکن وہ اپنا موقف ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے دہلی ریس کلب کو خالی کرنے کے حکم کو چیلنج کرنے والی جاکی ایسوسی ایشن کی عرضی خارج کر دی تھی۔ جسٹس ہریش ویدناتھن نے کہا کہ عرضی گزار لیز ہولڈر نہیں ہے اور اس کے پاس دیگر قانونی متبادل دستیاب ہیں۔

اس سے قبل ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے دہلی ریس کلب کو خالی کرنے کے حکم پر عائد روک ہٹا دی تھی۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بینچ نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت کو کسی بھی عوامی احاطے میں غیر مجاز طور پر مقیم شخص کو وہاں سے ہٹانے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔ ڈویژن بینچ نے کہا تھا کہ 24 اپریل کو ایک رکنی بینچ کو دہلی ریس کلب کو خالی کرنے کا حکم جاری نہیں کرنا چاہیے تھا۔

ڈویژن بینچ نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت کو کسی بھی عوامی احاطے سے غیر مجاز قبضہ ہٹانے کے لیے دفعہ 4 کے تحت اسٹیٹ آفیسر کے ذریعے کارروائی کرنے کا اختیار ہے۔ اسٹیٹ آفیسر کی کارروائی پر روک لگانا ایک طرح سے مقدمے کا فیصلہ کرنے کے مترادف ہے۔ ڈویژن بینچ نے کہا تھا کہ دہلی ریس کلب کو 1926 میں 84.484 ایکڑ زمین لیز پر دی گئی تھی۔ یہ لیز 31 دسمبر 1994 کو ختم ہو گئی تھی۔ ڈویژن بینچ نے کہا کہ کسی جائز قابض کی لیز ختم ہو جانے کے بعد اس کا قبضہ بھی غیر مجاز ہی تصور کیا جائے گا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اسٹیٹ آفیسر نے 17 اپریل کو دہلی ریس کلب کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ اس کے خلاف خالی کرنے کا حکم کیوں جاری نہ کیا جائے۔ دہلی ریس کلب نے اسی نوٹس کو ایک رکنی بینچ میں چیلنج کیا تھا۔ ایک رکنی بینچ نے 24 اپریل کو اس نوٹس پر روک لگا دی تھی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande