
امراوتی، 26 اگست (ہ س) ۔ ضلع خواتین اسپتال ڈفرین کی نئی عمارت میں 24 اگست کو وینٹی لیٹر پھٹنے کے واقعے میں تین نومولود بچوں کی المناک موت کے بعد سرکاری اسپتالوں میں استعمال ہونے والے وینٹی لیٹرز کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ جس شِلّر کمپنی کے وینٹی لیٹر میں ڈفرین اسپتال میں دھماکہ ہوا، اسی کمپنی کے دس ہزار سے زائد وینٹی لیٹرز ریاست کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں استعمال ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس صورتحال نے ریاست بھر کے سرکاری صحت نظام میں مریضوں کی حفاظت کا مسئلہ اہم بنا دیا ہے۔ واقعے کے پس منظر میں ضلع کلکٹر آشیش یریکر نے منگل کو ڈفرین اسپتال کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا اور شِلّر کمپنی کے نمائندوں سے تفصیلی پوچھ گچھ کی۔ پورے معاملے کی تکنیکی اور انتظامی جانچ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کر رہی ہے۔ کمیٹی جائے وقوعہ کا باریک بینی سے معائنہ بھی کرے گی۔ وینٹی لیٹرز کے استعمال سے متعلق اصل صورتحال اور حقائق کمیٹی کی تحقیقات اور تکنیکی جانچ مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔ذرائع کے مطابق، ڈاکٹروں اور صحت عملے نے وینٹی لیٹر کے استعمال کی مخالفت کی تھی ۔ نئی عمارت میں خصوصی نومولود نگہداشت یونٹ شروع کرتے وقت وہاں تعینات ڈاکٹروں اور صحت کارکنوں نے شِلّر کمپنی کے وینٹی لیٹر استعمال کرنے کی تحریری اور زبانی طور پر شدید مخالفت کی تھی۔ تاہم اس مخالفت کے باوجود اعلیٰ سطح سے اسی کمپنی کے وینٹی لیٹر استعمال کرنے پر زور کیوں دیا گیا، اس پر اب سوال اٹھ رہے ہیں۔ امراوتی کے شہری یہ بھی سوال کر رہے ہیں کہ نومولود بچوں کی جان سے زیادہ اہمیت آخر کس چیز کو دی گئی اور محکمہ صحت اور متعلقہ کمپنی کے درمیان ایسا کیا تعلق تھا جس کے باعث ڈاکٹروں کے اعتراضات کے باوجود انہی وینٹی لیٹرز کی خریداری اور تنصیب کی گئی۔ تاہم ان سوالات کا حتمی جواب اعلیٰ سطحی انتظامی اور تکنیکی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے