42 سال تک ٹھکانے بدلتا رہا، 1984 کے قتل کے معاملے کا ملزم گرفتار
نئی دہلی، 22 اگست (ہ س)۔ مغربی ضلع کے جنک پوری علاقے میں سال 1984 میں ہوئے قتل کے معاملے میں مفرور ملزم بالآخر 42 سال بعد پولیس کے ہاتھ لگ گیا۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی سینٹرل رینج نے ہردوئی کے رہنے والے نَتھو عرف نَتھولال (65) کو گرفتار کیا
42 سال تک ٹھکانے بدلتا رہا، 1984 کے قتل کے معاملے کا ملزم گرفتار


نئی دہلی، 22 اگست (ہ س)۔

مغربی ضلع کے جنک پوری علاقے میں سال 1984 میں ہوئے قتل کے معاملے میں مفرور ملزم بالآخر 42 سال بعد پولیس کے ہاتھ لگ گیا۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی سینٹرل رینج نے ہردوئی کے رہنے والے نَتھو عرف نَتھولال (65) کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم قتل کے معاملے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے فرار تھا۔ اس دوران وہ اتر پردیش کی مختلف تھوک سبزی منڈیوں میں کام کرکے اپنی شناخت اور سرگرمیوں کو محدود رکھتا رہا۔

پولیس کے مطابق، جنک پوری تھانے میں 23 مئی 1984 کو ایف آئی آر نمبر 252/1984 درج کی گئی تھی۔ مقدمہ تعزیراتِ ہند کی دفعہ 302 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ 22 اور 23 مئی 1984 کی درمیانی شب وِکاس پوری کے ڈسٹرکٹ پارک میں ایک نوجوان کی لاش ملی تھی۔ اس کے جسم پر چاقو کے متعدد وار کیے گئے تھے۔ بعد میں مقتول کی شناخت اتر پردیش کے سیتاپور کے رہنے والے اشوک کمار کے طور پر ہوئی۔

تحقیقات کے دوران سیتاپور کے رہنے والے بھوبھوتی پرساد کا کردار سامنے آیا تھا۔ پولیس نے اسے گرفتار کرلیا تھا اور اس کی نشاندہی پر قتل میں استعمال ہونے والا چاقو بھی برآمد کرلیا گیا تھا۔ تاہم، اس کا ساتھی نَتھو عرف نَتھولال پولیس کی گرفت سے بچ نکلا اور اس کے بعد مسلسل اپنے ٹھکانے تبدیل کرتا رہا۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ نَتھو اور بھبھوتی پرساد دوست تھے، جبکہ اشوک کمار اور بھبھوتی پرساد ایک ہی گاو¿ں کے رہنے والے تھے۔ پولیس کے مطابق، اشوک کمار نے بھبھوتی پرساد کی بیوی کے ساتھ مبینہ طور پر نامناسب سلوک کیا تھا، جس کے باعث دونوں کے درمیان تنازع چل رہا تھا۔ واردات والی رات نَتھو اور بھبھوتی نے پارک میں ایک ساتھ شراب پی۔ الزام ہے کہ اس کے بعد دونوں نے مشترکہ ارادے سے اشوک کمار کا قتل کردیا۔

چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کی وجہ سے ملزم کو تلاش کرنا کرائم برانچ کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔ ٹیم نے پرانے مقدمے کے ریکارڈ اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ملزم کے بارے میں دستیاب معلومات کو دوبارہ جمع کیا۔ گزشتہ کئی ماہ سے ٹیم سیتاپور اور ہردوئی اضلاع میں مسلسل فیلڈ ویری فکیشن کررہی تھی۔

پولیس کو ہردوئی کے پالی علاقے میں اطلاع ملی کہ ملزم زندہ ہے اور کبھی کبھار اپنے آبائی گاو¿ں آتا ہے۔ اس کے بعد مقامی سطح پر نگرانی شروع کی گئی۔ 17 اگست کو گاو¿ں میں ملزم کے حلیے سے مشابہ ایک مشتبہ شخص نظر آیا۔ ٹیم نے اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی اور معلومات کی تصدیق کے بعد گرفتاری کا منصوبہ بنایا۔

خفیہ اطلاع کی بنیاد پر 18 اگست کو کرائم برانچ کی ٹیم نے نَتھو عرف نَتھولال کو اس کے گاو¿ں کے قریب گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق، وہ گاو¿ں سے فرخ آباد کی جانب جارہا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا کہ گرفتاری سے بچنے کے دوران اس نے اتر پردیش کی مختلف تھوک سبزی منڈیوں میں کام کیا اور انتہائی کم پروفائل زندگی گزاری۔ اس نے شادی بھی نہیں کی اور اکیلا رہتا رہا۔

ملزم کے خلاف اتر پردیش کے فرخ آباد کے کوتوالی تھانے میں سال 2005 میں تعزیراتِ ہند کی دفعہ 364 کے تحت بھی مقدمہ درج ہونے کی معلومات سامنے آئی ہیں۔ کرائم برانچ ملزم سے پوچھ گچھ کرکے قتل کے معاملے میں اس کے کردار اور چار دہائیوں تک فرار رہنے کے دوران اس کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات حاصل کررہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande