
۔اہل بزرگ شہریوں کو پنشن کے لیے غیر ضروری انتظار نہ کرناپڑے، زیر التوا درخواستوں کی تصدیق کی جائے اور انہیں فوری فوائد فراہم کیے جائیں: وزیر اعلیٰ
لکھنؤ،20 اگست (ہ س)۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جئے پرکاش نارائن سروودے اسکولوں کو منظم طریقے سے چلانے کے لئے جامع تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ اسکولوں کے لیے واضح ضوابط وضع کرنے، تدریسی خالی آسامیوں کے انتخاب کے عمل کو آگے بڑھانے اور ایک سوسائٹی کی تشکیل کی سمت میں ضروری کارروائی کی جائے، تاکہ ان رہائشی اسکولوں کا بندوبست اور کام -کاج زیادہ منظم طریقے سے ہو سکے۔
محکمہ سماجی بہبود کے وزیر اسیم ارون کی موجودگی میں جمعرات کو محکمہ کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اسکولوں میں اساتذہ اور دیگر ضروری عملے کی دستیابی، طلبا کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور انتظامی نظام کے بارے میں دریافت کیا۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ سال 2017 سے پہلے ریاست میں 93 جئے پرکاش نارائن سروودے ودیالیہ فعال تھے، جب کہ سال 2025-26 تک ان کی تعداد بڑھ کر 103 ہو گئی ہے۔ ان میں سے 59 اسکول سی بی ایس ای اور 44 اسکول یوپی بورڈ سے منسلک ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسکولوں میں اساتذہ کی خالی آسامیوں کو پر کرنے کا عمل تیز کیا جائے۔ اس کے ساتھ طلبا کی تعلیمی ضروریات کے مطابق دیگر ضروری انسانی وسائل کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔
میٹنگ میں وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ عمر رسیدہ افراد کی درخواستوں کی تصدیق کی جائے جو بزرگ پنشن کے اہل ہیں ،لیکن اب تک اس سے محروم ہیں اور انہیں جلد از جلد پنشن کا فائدہ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اہل بزرگ افراد کو غیر ضروری انتظار نہ کرنا پڑے اور درخواست کی تصدیق سے لے کر پنشن کی منظوری تک کا عمل وقت کا پابند ہو۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل اولڈ ایج پنشن اسکیم کے تحت استفادہ کنندگان کی تعداد سال 2017-18 میں 37.47 لاکھ سے بڑھ کر سال 2025-26 میں 67.50 لاکھ ہوگئی ہے۔ اس وقت تقریباً 11.50 لاکھ نئی درخواستیں زیر التوا ہیں۔
مکھیہ منتری ابھیودے یوجنا کے جائزہ کے دوران، وزیر اعلیٰ نے مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبا کو معیاری رہنمائی فراہم کرنے اور اس اسکیم کی رسائی اور اثر کو مزید بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ دستیاب وسائل کا بہتر استعمال کیا جائے اور بہترین اساتذہ اور ماہرین کے تجربے سے زیادہ سے زیادہ طلبا استفادہ کریں۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ اس اسکیم کو ریاست کے تمام 75 اضلاع میں 163 مراکز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ ان مراکز میں 1,783اساتذہ ہیں اور 23,801 طلبا مختلف مسابقتی امتحانات بشمول یو پی ایس سی، پی سی ایس، نیٹ ، جے ای ای ، این ڈی اے/سی ڈی ایس کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔ اس اسکیم کے تحت چار سینٹر آف ایکسیلنس بھی کام کر رہے ہیں۔
اسکالرشپ کی تقسیم کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر اہل طالب علم کو وقت پر اسکالرشپ کے فوائد حاصل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ سے محروم طلبا کے لیے درخواست پورٹل کو فوری طور پر کھولا جائے اور اسکالرشپ فنڈز کو ہر قیمت پر 2 اکتوبر تک منتقل کیا جائے۔ انہوں نے اسکالرشپ کی تقسیم میں تکنیکی اور طریقہ کار کی مشکلات کو جلد حل کرنے اور اہل طلباءکو مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ مختلف وجوہات کی بنا پر اسکالرشپ سے محروم رہ گئے تقریباً 3.16 لاکھ طلبا کو پھر سے موقع فراہم کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں ۔ ان میں سرکاری اداروں کے 31,836، امدادی اداروں کے 69,631 اور نجی اداروں کے 246,426 طلبا شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد