
نئی دہلی، 20 اگست(ہ س )۔
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ملک بھر میں چینی کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے لیے مودی حکومت کے غلط فیصلے کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گنے سے ایتھنول بنانے کی وجہ سے چینی کی پیداوار کم ہوگئی اور 17 دنوں میں چینی 20 روپے فی کلو مہنگی ہوگئی۔ یہ لوگ ایتھنول کو پٹرول میں ملا کر تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والے غیر ملکی زرمبادلہ کو بچانے کی بات کر رہے تھے۔ حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ اب وہی غیر ملکی زرمبادلہ خرچ کرکے چینی درآمد کرنے کی نوبت آگئی ہے۔ یہ حکومت ہے یا مذاق؟ پوری کی پوری ان پڑھوں کی حکومت ہے۔ کسی کو کچھ نہیں معلوم کہ کیا کرنے سے کیا ہوگا؟ جمعرات کو ایک ویڈیو جاری کرکے آپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے مودی حکومت بالکل ان پڑھ لوگوں کی حکومت ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کیا فیصلے لے رہے ہیں اور ان کا کیا اثر ہوگا۔ انہوں نے گنے کی کاشت کو ایتھنول بنانے کے لیے منتقل کیا اور ایتھنول کو پٹرول میں ملانا شروع کردیا۔ کہا گیا کہ اس سے پٹرول کی بچت ہوگی اور غیر ملکی زرمبادلہ بچے گا، جسے ہم بیرونِ ملک سے تیل درآمد کرنے پر خرچ کرتے ہیں۔گنے کی کاشت کو ایتھنول بنانے کے لیے منتقل کرنے سے ملک میں گنے اور چینی کی شدید قلت ہوگئی۔ چینی کی قلت کے باعث گزشتہ 17 دنوں میں اس کی قیمت 20 روپے فی کلو بڑھ گئی ہے۔ 17 دن پہلے جو چینی 46 روپے فی کلو تھی، وہ اب 65 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ ہمارا ملک چینی برآمد کرتا تھا، لیکن اب درآمد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ تیل پر خرچ ہونے والے غیر ملکی زرمبادلہ کو بچانے کے لیے ایتھنول بنایا گیا اور اب اسی غیر ملکی زرمبادلہ کو ہم چینی درآمد کرنے پر خرچ کریں گے۔ ایک طرف ایتھنول ملے پٹرول سے لوگوں کی گاڑیاں خراب ہورہی ہیں اور مائلیج کم ہورہی ہے، وہیں دوسری طرف لوگوں کو اب مہنگی چینی خریدنی پڑ رہی ہے۔ حکومت فیصلہ کرتی ہے، لیکن اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کا کیا اثر ہونے والا ہے۔ جب گنے کو ایتھنول کے لیے منتقل کیا گیا تو انہیں سوچنا چاہیے تھا کہ اتنا گنا ایتھنول میں جائے گا تو چینی کہاں سے آئے گی؟ سمجھ نہیں آتا کہ مودی حکومت میں اوپر سے نیچے تک سب کے سب ان پڑھ ہیں کیا؟ اروند کیجریوال نے کہا کہ انہوں نے اب تک جتنے بھی فیصلے لیے ہیں، ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ نوٹ بندی میں پورے ملک میں کئی لوگ مارے گئے۔کورونا آیا تو لوگوں کو آکسیجن سلنڈر فراہم کرنے کے بجائے تھالیاں بجانے کے لیے کہا گیا۔ایسا لگتا ہے کہ پوری کی پوری حکومت ان پڑھ لوگوں کی ہے۔ لیکن قصور ہمارا اپنا ہے کہ ہم نے ان ان پڑھ لوگوں کو ووٹ دے کر وہاں بٹھا دیا، جنہیں کوئی عقل نہیں ہے۔ انہیں حکومت چلانا نہیں آتی اور پریشان ہم لوگ ہورہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais