
ملازمت منسوخ ہونے والے نوجوانوں نے پھر پروجیکٹ بھون کے سامنے مظاہرہ کیا
رانچی، 20 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ حکومت کی جانب سے مقررہ ملازمین کو ہٹانے سے متعلق نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی تین علیحدہ علیحدہ عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے جے پی ایس سی کے 11ویں سے 13ویں سول سروسز امتحان اور فوڈ سیفٹی آفیسر کی تقرریاں منسوخ کرنے کے حکومتی حکم پر اگلے حکم تک روک لگا دی ہے۔
تاہم، اس سے قبل جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی سی جی ایل سمیت دیگر مسابقتی امتحانات کے ذریعے ہونے والی تقرریاں منسوخ کیے جانے کے خلاف نوکری گنوانے والے نوجوانوں کا پروجیکٹ بھون کے سامنے دھرنا جمعرات کے روز تیسرے دن بھی جاری رہا۔ بڑی تعداد میں جمع ہونے والے امیدواروں نے کہا کہ اگر کسی کو غلط طریقے سے نوکری ملی ہے تو اس کی تقرری منسوخ کی جانی چاہیے، لیکن جن لوگوں نے اپنی محنت اور قابلیت کی بنیاد پر نوکری حاصل کی ہے، ان کی صورتِ حال کو بھی حکومت کو سمجھنا چاہیے۔
دھرنے کی جگہ پر لاتیہار میں فوڈ سیفٹی آفیسر کے عہدے پر تعینات دھنباد کے ساکن امن گپتا نے کہا کہ انہوں نے سال 2023 میں فوڈ سیفٹی آفیسر کے امتحان کی تیاری شروع کی تھی۔ سال 2024 میں امتحان دیا اور سال 2026 میں حتمی نتائج کے اعلان کے بعد ان کا انتخاب ہوا۔ اس کے بعد انہیں فوڈ سیفٹی آفیسر کے عہدے پر تقرری ملی۔ یہ ان کی پہلی سرکاری نوکری تھی، لیکن نوکری ملنے کے محض دو ماہ بعد ہی تقرری منسوخ کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔
امن گپتا نے بتایا کہ وہ خاندان کے واحد کمانے والے فرد ہیں اور ان کے والدین بھی ان ہی پر منحصر ہیں۔ تقریباً دو ماہ تک خدمات انجام دینے کے باوجود انہیں اب تک تنخواہ نہیں ملی ہے۔ تقرری منسوخ ہونے سے ان کے سامنے معاشی بحران کھڑا ہو گیا ہے۔
منا کمار نے کہا کہ جس نے غلطی کی ہے، حکومت اس کے خلاف جانچ کر کے کارروائی کرے، لیکن حقیقی محنت کی بنیاد پر نوکری پانے والوں کی تقرری چھیننا درست نہیں ہے۔
شیلیش کمار یادو نے کہا کہ سی آئی ڈی کی جانچ کے بعد انہیں کلین چٹ ملی تھی۔ اسی بنیاد پر عدالت کے حکم سے انہیں نوکری ملی تھی۔ اب اچانک تقرری منسوخ کرنا انصاف کے خلاف ہے۔
وشوناتھ گاگرائی سمیت دیگر نوجوانوں نے بھی ریاستی حکومت سے تقرری منسوخ کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پورے معاملے کا از سرِ نو جائزہ لے کر تقرریاں منسوخ کرنے کا حکم واپس لیا جانا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن