
غازی آباد، 19 اگست (ہ س)۔ اترپردیش کے غازی آباد ضلع کے صاحب آباد تھانہ علاقے کے راجندر نگر میں واقع ایک نجی ہوٹل میں دہلی پولیس کی خاتون ہیڈ کانسٹیبل کی خودکشی کے معاملے میں پولیس نے کل رات اس کے ساتھی ہیڈ کانسٹیبل کے خلاف رپورٹ درج کی ہے۔ متوفی کے والد نے ہیڈ کانسٹیبل پر اسے خودکشی کے لئے اکسانے اور شادی کا جھوٹا وعدہ کر کے تعلقات بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
اسسٹنٹ پولیس کمشنر امت سکسینہ نے بتایا کہ غازی آباد کے مسوری تھانہ علاقے کے ایک گاو¿ں کی رہنے والی دہلی پولیس میں تعینات ایک خاتون کانسٹیبل کے والدنے پولیس کو درج شکایت میں بتایا کہ ان کی بیٹی دہلی کے ایک پولیس اسٹیشن میں تعینات تھی۔ وہ کچھ عرصے سے پریشان نظر آ رہی تھی۔ 14 اگست کو بیٹی نے اپنی ماں کو بتایا کہ دہلی پولیس کے جس تھانے میں وہ تعینات ہے ، اسی تھانے میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل غازی آباد رہائشی سچن کمار اسے کافی دنوں سے ہراساں کر رہا ہے۔
شکایت کنندہ کے مطابق، 16 اگست کو ان کی بیٹی کا فون نہیں لگاجس کی وجہ سے وہ گھبرا گئے۔ بعد میں انہیں راجندر نگر پولیس اسٹیشن سے اطلاع ملی کہ ان کی بیٹی ایک ہوٹل میں مردہ پائی گئی ہے۔ والد نے الزام لگایا کہ سچن کمار نے غیر شادی شدہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کی بیٹی کو محبت کے جال میں پھنسایا۔ سچن نے ان بیٹی کا جسمانی اور ذہنی استحصال کیا۔ والد کا الزام ہے کہ سچن کمار ہی ان کی بیٹی کی موت کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے سچن کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
دریں اثنا، پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقتول خاتون کانسٹیبل اور ملزم ہیڈ کانسٹیبل اس سے قبل درجنوں بار ہوٹل آچکے تھے۔ دونوں اس ہوٹل میں ایک طویل عرصے سے آتے جاتے تھے اور کافی وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزارتے تھے۔ پولیس کی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ واردات والے دن خاتون اپنے ساتھی ہیڈ کانسٹیبل کے ساتھ ہوٹل کے کمرے میں آئی تھی۔ ہیڈ کانسٹیبل تقریباً ایک گھنٹے تک کمرے میں رہا، اس کے بعد وہ چلا گیا ۔ پولیس تمام زاویوں سے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد