ایک کروڑ روپے تاوان کے لیے کیا تھااغوا، ملزم عمر قید کی سزا کے بعد 26 سال سے مفرور تھا
نئی دہلی، 17 اگست (ہ س)۔ کرائم برانچ کی اے آر ایس سی ٹیم نے 31 سال قبل ایک کروڑ روپے تاوان کے لیے کیے گئے کئے گئے اغوا کے معاملے میں عمر قید کی سزا پانے کے بعد 26 سال سے مفرور ملزم کو دہرادون سے گرفتار کیا ہے۔ ملزم نے سال 2000 میں دہلی ہائی کورٹ سے
CRIME-BRANCH-KIDNAPPING-FOR-RA


نئی دہلی، 17 اگست (ہ س)۔ کرائم برانچ کی اے آر ایس سی ٹیم نے 31 سال قبل ایک کروڑ روپے تاوان کے لیے کیے گئے کئے گئے اغوا کے معاملے میں عمر قید کی سزا پانے کے بعد 26 سال سے مفرور ملزم کو دہرادون سے گرفتار کیا ہے۔ ملزم نے سال 2000 میں دہلی ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت ملنے کے بعد جیل میں خودسپردگی نہیں کی تھی جس کے بعد اسے مفرور قرار دے دیا گیا تھا اور اس کی گرفتاری پر 5 ہزار روپے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ گرفتار ملزم کی شناخت 57 سالہ امت یادو کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ اصل میں باغپت کے سید پور گاو¿ں کا رہنے والا ہے۔ پولیس نے اسے 13 اگست کی رات دہرادون سے پکڑا ۔ گرفتاری کے بعد اسے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق، یہ معاملہ 1995 کا ہے۔ 12 ستمبر کو شام 7 بجے کے قریب، رشی سیٹھی ایمس کے ڈائریکٹر کی رہائش گاہ کے قریب اپنی کار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ تین - چار بدمعاشوں نے انہیں زبردستی پکڑ لیا۔ ملزمین نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی ، آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور ن کی ہی کار میں اغوا کر کے لے گئے ۔ اس کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر لے جا کر یرغمال بنا لیا گیا۔

اغوا کاروں نے رشی سیٹی کے اہل خانہ سے ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔ پولیس کے منصوبے کے مطابق اہل خانہ نے میرٹھ میں ہوٹل میور کے کمرہ نمبر 221 میں 10 لاکھ روپے تاوان جمع کرایا۔ 16 ستمبر 1995 کو جب امت یادو تاوان کی رقم لینے پہنچا تو پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس کے قبضے سے 10 لاکھ روپے کی پوری رقم برآمد ہوگئی ۔

امت یادو سے پوچھ گچھ کے بعد پولیس اس کے راج کنج، راج نگر، غازی آباد میں کرائے کے مکان پر پہنچی۔ رشی سیٹی اسٹور روم میں زنجیروں میں جکڑا پایا گیا۔ پولیس نے اسے بحفاظت بچا لیا۔ جائے وقوعہ سے تالے، چابیاں، پٹے اور جرم سے متعلق دیگر اشیا بھی برآمد کی گئیں۔

امت یادو کو اس معاملے میں 17 ستمبر 1995 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 25 اگست 1999 کو عدالت نے اسے مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید اور 2.50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اس کے خلاف اس نے دہلی ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ 15 جنوری 2000 کو ہائی کورٹ نے ا سے ایک ماہ کے لیے عبوری ضمانت دے دی لیکن اس کے بعد وہ واپس جیل نہیں آیا۔ 13 دسمبر 2000 کو ہائی کورٹ نے اس کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزا کو برقرار رکھا۔ اس کے بعداسے مفرور قرار دیا گیا اور اس کی گرفتاری کے لیے 5000 روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا۔

ایک پولیس افسر کے مطابق، کرائم برانچ کے لیے 26 سال سے مفرور ملزم کو پکڑنا آسان نہیں تھا۔ پرانے کیس کے ملزم کی کوئی تصویر پولیس یا جیل ریکارڈ میں موجود نہیں تھی۔ مقدمے سے متعلق پرانے کاغذات بھی ابتدائی طور پر دستیاب نہیں تھے۔ نتیجتاً، کرائم برانچ نے کرائم ریکارڈ آفس اور فنگر پرنٹ بیورو کی مدد لی۔ تفتیشی ٹیم نے ملزم کا بایو میٹرک اور فنگر پرنٹ ریکارڈ حاصل کیا جو 1999 میں اس کی سزا کے دوران ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تب ٹیم کو معلوم ہوا کہ وہ دہرادون میں چھپا ہوا ہے۔

پوچھ گچھ کے دوران، ملزم نے انکشاف کیا کہ 2000 میں فرار ہونے کے بعد، اس نے غازی آباد میں اپنا کرائے کا مکان خالی کر دیا اور دہلی پولیس کے ساتھ درج کیے گئے تمام سابقہ رابطوں کومنقطع کر دیا۔ اس نے باغپت میں اپنی آبائی جائیداد بھی بیچ دی۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ پہلے رشی کیش گیا اور جگہ بدلتا رہا۔ 2001 میں وہ دہرادون پہنچا اور وہاں ایک نئی شناخت کے ساتھ رہنے لگا۔

بعد میں اس نے تعمیراتی کاروبار شروع کیا اور دہرادون میں بلڈر کے طور پر کام کیا۔ پولیس کے مطابق،وہ اس فرضی شناخت کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً ڈھائی دہائیوں تک قانون سے بچتا رہا۔کرائم برانچ اب ملزم کے ماضی کے ریکارڈ اور مفرور ہونے کے دوران اس کی شناخت کی چھان بین کر رہی ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande