
حیدرآباد ،9 جولائی (ہ س)۔ تلنگانہ سکریٹریٹ میں عہدیداروں کے چیمبرس میں چائے، کافی اور ناشتے کے بلوں میں بڑے پیمانے پربے قاعدگیوں اوربوگس بلنگ کا سنسنی خیزمعاملہ سامنے آیا ہے۔ بتایاجارہا ہے کہ وزیراعلی آفس سکریٹریز،چیف سکریٹریزاورسی پی آراودفاترمیں کام کرنے والے عہدیداراورعملہ روزانہ ان سے ملاقات کرنے کے لئے پہنچنے والے مہمانوں کے نام پرہرماہ ہزاروں کپ چائے اورکافی کافرضی بل بناکرسرکاری خزانے کولاکھوں روپے کاچونا لگارہے ہیں۔ جب محکمہ پروٹوکال کے اعلیٰ عہدیداروں نے کنٹراکٹ ایجنسی کی جانب سے جمع کرائے جانے والے تازہ ترین بلزکی باریک بینی سے جانچ کی تووہ یہ دیکھ کردنگ رہ گئے کہ ان کے دفاترمیں روزانہ سینکڑوں کپ چائے پینے کا مبالغہ آمیزریکارڈدکھایاگیاہے۔ اس سنگین بدعنوانی اورسرکاری سہولیات کے کھلے عام غلط استعمال پرفوری اثرکے ساتھ عہدیداروں اورعملے کوسرکاری خرچ پرملنے والے دوپہرکے کھانے اور ناشتے کی سپلائی پرمکمل پابندی عائد کردی گئی اورچائے کے بلزکی ادائیگی روک کراعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جارہی ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ان دفاترکے ہرسیکشن میں اوسطاً10سے12افراد کااسٹاف ہوتا ہے اور15سے20 مہمان ملاقات کے لئے آتے ہیں اگر یہ تمام لوگ دن میں دو باربھی چائے پیتے ہیں توماہانہ اوسطاً1500 سے 1600 کپ چائے بنتی ہے لیکن کنٹراکٹ کمپنی(ایجنسی)نے جوفائنل بل جمع کرائے ہیں ان کے چونکادینے والےاعداد و شمار زمینی حقیقت سے بالکل میل نہیں کھا رہے ہیں۔ بلز کے مطابق سی پی آراوآفس میں ہرماہ تقریباً 10 ہزارکپ چائے؍کافی چیف سکریٹری کے دفترمیں8ہزارکپ اوردیگرسکریٹریزکے عملے کے نام پر4 سے5 ہزارکپ سپلائی کئے گئے۔ اگران بلزکوسچ مانا جائے توروزانہ 200 سے 300 مہمانوں کا ان دفاتر میں آنااورچائے پینا لازمی ہے جوکہ عملی طورپرناممکن ہے۔ سینئرعہدیداروں کوشبہ ہے کہ کنٹراکٹ ایجنسی نے چائے اور کافی پاؤڈر،دودھ، شکر کی بہت کم سپلائی کی اوراندرونی ملی بھگت سے لاکھوں روپے کے فرضی بلزبناکرمنظورکروایا۔ دوسری طرف سکریٹریٹ کے حلقوں میں یہ بھی بحث عام ہے کہ حکومت کی طرف سے بلزکی ادائیگی میں مہینوں کی تاخیرکی وجہ سے کنٹراکٹ ایجنسیاں جان بوجھ کرزائداورفرضی بل جمع کروانااپنامعمول بناچکی ہیں تاکہ وہ بلزکوسودسمیت وصول کرسکیں۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق