
بھوپال، 09 جولائی (ہ س): مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صفائی مزدور کارکن سیل نے ریاست کے شہری بلدیاتی اداروں، میونسپل کارپوریشنوں، میونسپل کونسلوں اور نجی شعبے میں کام کرنے والے صفائی ملازمین کے مبینہ معاشی، جسمانی اور ذہنی استحصال کے خلاف 10 جولائی کو وزیر اعلیٰ رہائش گاہ کے گھیراؤ کا اعلان کیا ہے۔
سیل کا کہنا ہے کہ وہ صفائی ملازمین کے 11 نکاتی مطالبات کے حق میں ریاستی کانگریس ہیڈکوارٹر سے وزیر اعلیٰ رہائش گاہ تک پیدل مارچ کرے گا۔
سیل کے ریاستی صدر جے راج سنگھ چوہان نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ریاستی حکومت نے صفائی ملازمین کے حقوق اور مفادات کو مسلسل نظر انداز کیا ہے، جس کے باعث ملازمین میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صفائی ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے دیرینہ مطالبات کی تکمیل کے لیے یہ احتجاجی تحریک منعقد کی جا رہی ہے۔ چوہان نے بتایا کہ 10 جولائی کو دوپہر 12 بجے ریاستی کانگریس ہیڈکوارٹر سے وزیر اعلیٰ رہائش گاہ تک پیدل مارچ نکالا جائے گا۔ اس احتجاج میں ریاست بھر سے سیل کے عہدیداران، ضلعی صدور، کانگریس کارکنان اور بڑی تعداد میں صفائی ملازمین شریک ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ احتجاج کے دوران حکومت کو 11 نکاتی مطالباتی یادداشت پیش کی جائے گی۔ اہم مطالبات میں شہری بلدیاتی اداروں میں ٹھیکہ نظام کا خاتمہ، گزشتہ 20 برس سے خدمات انجام دے رہے عارضی، کنٹریکٹ اور ضابطہ بند ملازمین کو مستقل کرنا، کام کے دائرہ کار کے مطابق ایک لاکھ نئے صفائی ملازمین کی آسامیاں پیدا کر کے بھرتی کرنا، اور ریزرو زمرے سے تعلق رکھنے والے اہل صفائی ملازمین کو تمام قانونی سہولیات فراہم کرنا شامل ہیں۔
اس کے علاوہ دیگر ریاستوں کی طرز پر صفائی ملازمین کے لیے علیحدہ تین فیصد ریزرویشن، غیر صحت بخش کام انجام دینے والے ملازمین کو ہر ماہ 5,000 روپے خصوصی الاؤنس دینے، اور سیور یا سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران کسی ملازم کی موت کی صورت میں لواحقین کو ایک کروڑ روپے مالی امداد، بازآبادکاری اور متوفی ملازم کو شہید کا درجہ دینے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ سیل کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان مطالبات پر مثبت فیصلہ نہ کیا تو احتجاج کو مزید وسیع پیمانے پر جاری رکھا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد