
علی گڑھ, 09 جولائی (ہ س)دور حاضر میں دنیا مذہبی منافرت، تعصب اور عدم برداشت جیسے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے حالات میں امن، رواداری، انصاف اور باہمی احترام کی اقدار کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف عالمِ دین مولانا جمیل احمد قاسمی نے آج اس موضوع پر اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو انسانیت، عدل، رواداری، باہمی احترام اور امن و آشتی کا پیغام دیتا ہے۔ اسلام کثیرالثقافتی (ملٹی کلچرل) معاشرے کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ مختلف مذاہب، تہذیبوں، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان باہمی تعاون، خیرسگالی اور احترامِ باہمی کو فروغ دینے کی تعلیم بھی دیتا ہے۔
مولانا جمیل احمد قاسمی نے کہا کہ قرآنِ مجید نے واضح طور پر بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور مختلف قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں، نہ کہ ایک دوسرے پر برتری جتائیں۔ اسلام میں عزت و فضیلت کا معیار رنگ، نسل، زبان یا قومیت نہیں بلکہ تقویٰ، کردار اور اخلاق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام مذہبی آزادی کا بھی علمبردار ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین، جو مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ احترام اور پرامن بقائے باہمی کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔
مولانا قاسمی نے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں میثاقِ مدینہ کے ذریعے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی، جہاں مختلف مذاہب کے افراد کو مساوی شہری حقوق، مذہبی آزادی اور جان و مال کا تحفظ فراہم کیا گیا۔ یہی اسلامی تعلیمات کی حقیقی روح ہے، جس میں ہر انسان کے ساتھ عدل اور حسنِ سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں کی مشترکہ تہذیب، باہمی بھائی چارہ اور مختلف تہواروں میں ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہونے کی روایت اس بات کا ثبوت ہے کہ تنوع کسی بھی قوم کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت ہوتا ہے۔
مولانا جمیل احمد قاسمی نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں جب دنیا کے مختلف حصوں میں مذہبی منافرت، تعصب اور عدم برداشت جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں، ایسے وقت میں اسلام کی تعلیمات امن، انصاف، برداشت اور مکالمے کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات کو چاہیے کہ وہ نفرت کے بجائے محبت، تصادم کے بجائے گفت و شنید اور تعصب کے بجائے انصاف کو فروغ دیں۔
آخر میں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر قرآن و سنت کی تعلیمات اور اعلیٰ انسانی اقدار کو صحیح معنوں میں اپنایا جائے تو نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں امن، بھائی چارہ، سماجی ہم آہنگی اور باہمی احترام کی فضا کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ