20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی ایکسپائرڈ فوڈ پروڈکٹ ضبط
ایکسپائری تاریخوں میں تبدیلی کے بعد انہیں مارکیٹ اور ای کامرس پلیٹ فارم پر فروخت کرنے والے گروہ کا پردہ فاش نئی دہلی، 3 جولائی (ہ س)۔ ساو¿تھ ایسٹ ڈسٹرکٹ پولیس نے ایکسپائری اور ایکسپائری کے قریب بین الاقوامی برانڈ کی خوردنی اشیا تیار کرنے اور ا
20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی ایکسپائرڈخوردنی اشیا ضبط


ایکسپائری تاریخوں میں تبدیلی کے بعد انہیں مارکیٹ اور ای کامرس پلیٹ فارم پر فروخت کرنے والے گروہ کا پردہ فاش

نئی دہلی، 3 جولائی (ہ س)۔

ساو¿تھ ایسٹ ڈسٹرکٹ پولیس نے ایکسپائری اور ایکسپائری کے قریب بین الاقوامی برانڈ کی خوردنی اشیا تیار کرنے اور ایکسپائری تاریخ تبدیل کر کے اہیں نئے پروڈکٹ کے طور پر بازار اور ای کامرس پلیٹ فارم پر فروخت کرنے والے ایک منظم گروہ کا پردہ فاش کیا ہے۔

پولیس نے اوکھلا فیز 2 میں ایک فیکٹری پر چھاپہ مارا اور 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی ایکسپائرڈ فوڈ پراڈکٹس، پرنٹنگ اور سیل کرنے والی مشینیں، جعلی لیبل، بارکوڈز اور دوبارہ پیکنگ میں استعمال ہونے والا دیگر سامان ضبط کیا۔ پولیس کے مطابق یہ گروہ کافی عرصے سے اس کاروبار میں سرگرم تھا اور شبہ ہے کہ وہ دہلی سمیت ملک بھر کی مختلف ریاستوں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی سامان بھیجتا تھا۔

جنوبی مشرقی ضلع کے ڈپٹی کمشنر پولیس ڈاکٹر ہیمنت تیواری نے کہا کہ کمپنی کے مالک سمیت سات ملزموں کو اس معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزموں کی شناخت کمپنی کے مالک درشن سنگھ سچدیوا (70)، نتیش بھاردواج (38) منیجر، نریندر کمار (42) اکاو¿نٹنٹ، کپل (34) مشین آپریٹر، گودام کیپر لکی اوجھا (45) اور پریم یادو (33) اور پون کمار یادو (32) سپروائز کے طور پر کی گئی ہے۔ سب سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس نیٹ ورک میں کئی اور لوگ ملوث ہیں۔

چائلڈ لیبر کی اطلاع پر ٹیم پہنچی تو فوڈ اسکینڈل کا راز فاش ہوگیا

پولیس ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ پولیس کو اطلاع ملی کہ اوکھلا فیز 2 میں واقع ویسٹنڈ کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ میں بچہ مزدوروں کو کام پر رکھا جا رہا ہے۔ معلومات کی بنیاد پر اوکھلا انڈسٹریل ایریا پولیس اسٹیشن نے ایس ڈی ایم بدر پور، ایف ایس ایس اے آئی اور این جی او مشن مکتی کے ساتھ مل کر مشترکہ چھاپہ مارا۔ اگرچہ چھان بین کے دوران کوئی بچہ مزدور نہیں ملا، تاہم گودام اور فیکٹری کی تلاشی سے بڑی مقدار میں ایکسپائرڈ اور ایکسپائرڈ فوڈ پراڈکٹس کا انکشاف ہوا۔ جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھی، یہ پتہ چلا کہ مصنوعات کو مینوفیکچرنگ اور ایکسپائری کی تاریخوں کو منظم طریقے سے تبدیل کیا جا رہا تھا اور پھر نئے سامان کے طور پر مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا تھا۔

تفتیش میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ ایسی اشیا جو ایکسپائر ہو چکی ہو یا ایکسپائر کے قریب ہو ان کا لیبل تھینر کی مدد سے مٹا دیا جاتا تھا اور اس پر نئی تاریخ درج کر کے انہیں مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا تھا ۔تفتیش میں یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ اشیا صرف دہلی ہی نہیں بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی سپلائی کی جا رہی تھی ۔پولیس نے ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande