
واشنگٹن،29جولائی(ہ س)۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی مقامی تیاری کے لیے لائسنس دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس سے یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔ زیلنسکی نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات انتہائی مثبت رہی، جس میں پیٹریاٹ میزائلوں کی تیاری کے لائسنس سمیت دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر اتفاقِ رائے ہوا۔ ان کے بقول، اس پیش رفت سے یوکرین کو اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کو روسی بیلسٹک میزائل حملوں کے خلاف یوکرین کا سب سے مؤثر دفاعی ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ یوکرینی قیادت پہلے ہی متعدد بار اس بات کی نشاندہی کر چکی ہے کہ ملک کو انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید کمی کا سامنا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ان کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔اس سے قبل وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا تھا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ یوکرین کے فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے، پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی تیاری کے لائسنس اور دیگر دفاعی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔رواں ماہ کے آغاز میں بھی صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ واشنگٹن یوکرین کو پیٹریاٹ میزائلوں کی مقامی تیاری کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے۔ بعد ازاں انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے یہ معاہدہ جلد طے پا جائے گا اور یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل تیار کرنے کا لائسنس دیا جائے گا۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے تک بند کمرے میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اسے ’انتہائی مثبت‘ قرار دیا، جبکہ زیلنسکی نے بھی فاکس نیوز سے گفتگو میں ملاقات کو تعمیری اور مفید پیش رفت قرار دیا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan