
سیوان، 29 جولائی (ہ س)۔پیپر لیک معاملے میں بہار میں جین زی کے احتجاج کے دوران پولیس کے ذریعہ مظاہرین پر فائرنگ کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو بہار کے سیوان ضلع کی ہے ۔ اس سلسلے میں
پولیس سپرنٹنڈنٹ پورن کمار جھا نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پرپولیس کے ذریعہ فائرنگ کی ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ویڈیو بہار کے سیوان ضلع کا ہے جہاں احتجاج کے دوران پولیس طلبا پر فائرنگ کرتی نظرآ رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ دعویٰ سراسر گمراہ کن، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ وائرل ویڈیو کا تعلق سیوان ضلع سے نہیں ہے۔ایس پی پورن کمار جھا نے کہا کہ اس طرح کے جھوٹے اور گمراہ کن مواد کو پھیلا کر لوگوں کو گمراہ کرنے اور سماجی ہم آہنگی کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ بغیر تصدیق کے سوشل میڈیا پر کوئی ویڈیو، تصویر یا پیغام شیئر نہ کریں اور صرف سرکاری اور تصدیق شدہ معلومات پر اعتماد کریں۔انہوں نے کہا کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سائبر تھانہ سیوان میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور وائرل ویڈیو کے ذریعہ اور اسے پھیلانے والوں کی شناخت کی جارہی ہے اور قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔ایس پی نے واضح کیا کہ سیوان پولیس سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے گمراہ کن، افواہ پھیلانے اور اشتعال انگیز مواد کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ افواہیں پھیلانے یا فرضی پوسٹ شیئر کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور کسی بھی مشکوک مواد کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan