حکومت پنجاب نے بے ادبی روک تھام قانون کا نظر ثانی مسودہ سری اکال تخت صاحب کے انچارج کوپیش کیا
حکومت کادعویٰ،اٹھائے گئے تمام بڑے اعتراضات کو ہٹا دیا گیا امرتسر، 29 جولائی (ہ س)۔ حکومت پنجاب نے بے ادبی روک تھام کے قانون کی متنازعہ دفعات میں ترمیم کرکے نیا مسودہ سری اکال تخت صاحب کو پیش کیا ہے۔ ایم ایل اے ڈاکٹر اندربیر سنگھ نجر اور ڈپٹی کمشنر
قانون


حکومت کادعویٰ،اٹھائے گئے تمام بڑے اعتراضات کو ہٹا دیا گیا

امرتسر، 29 جولائی (ہ س)۔ حکومت پنجاب نے بے ادبی روک تھام کے قانون کی متنازعہ دفعات میں ترمیم کرکے نیا مسودہ سری اکال تخت صاحب کو پیش کیا ہے۔ ایم ایل اے ڈاکٹر اندربیر سنگھ نجر اور ڈپٹی کمشنر دلوندرجیت سنگھ نے حکومت کی طرف سے نظر ثانی شدہ مسودہ سری اکال تخت صاحب سیکرٹریٹ کے انچارج بغیچاسنگھ کے حوالے کیا۔

میڈیا سے بات چیت کے دوران ڈاکٹر اندربیر سنگھ نجر نے کہا کہ قانون کے مسودے پر سری اکال تخت صاحب کی طرف سے اٹھائے گئے تمام بڑے اعتراضات کو نظر ثانی شدہ مسودے میں ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسودہ اب مطالعہ کے لیے سری اکال تخت صاحب سیکرٹریٹ کے پاس ہے اور وہاں سے ملنے والی تجاویز یا فیصلے کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ ڈاکٹر نجر نے بتایا کہ جتھیدار صاحب دستاویزات حوالے کرنے کے وقت موجود نہیں تھے۔

اس سے قبل سری اکال تخت صاحب نے مسودہ قانون پر چھ بڑے اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان میں بیڑ کی جگہ لفظ سروپ کا استعمال، کسٹوڈین سے متعلق دفعات، سری گرو گرنتھ صاحب کے سروپوں کویونک نمبردینےکے التزام، کسٹوڈین کی ذمہ داریاں طے کرنا، تعزیراتی دفعات کی وضاحت، اور حادثے کی صورت میں سری گرو گرنتھ صاحب کے سوروپ کو کیس پراپرٹی نہ بنانے کا التزام شامل ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande