
لکھنؤ، 29 جولائی(ہ س)۔ مرکزی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے بدھ کے روز لکھنؤ کے کمانڈ اسپتال (سنٹرل کمانڈ) میں ملک کے پہلے خصوصی ڈپارٹمنٹ آف ملٹری میڈیسن کا ورچوئل افتتاح کیا۔ فوج کی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیکل سروسز(ڈی جی ایم ایس) کے تحت قائم کیے گئے اس شعبے کا مقصد فوجی طب، تحقیق، تربیت اور مستقبل کی جنگی ضروریات کے مطابق طبی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔یہ شعبہ فوجیوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ فوجی طب کے میدان میں تحقیق اور مہارت کو فروغ دینے کا ایک اہم مرکز ثابت ہوگا۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارتی فوجی دنیا کے دشوار گزار علاقوں اور انتہائی سخت موسمی حالات میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں، اس لیے ان کی ضروریات کے مطابق خصوصی طبی پروٹوکول تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا شعبہ مستقبل کی جنگوں اور بدلتے ہوئے سیکورٹی چیلنجوں کے مطابق ملک کی طبی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ فوجیوں کے حوصلے میں بھی اضافہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ جدید دور میں یہ ادارہ تحقیق و ترقی کا ایک اہم مرکز بنے گا اور نئی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ملک کو تیار کرے گا۔ ان کے مطابق یہ اقدام مستقبل کی دفاعی ضروریات کے پیشِ نظر نہایت اہم ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے امید ظاہر کی کہ یہ شعبہ آرمی میڈیکل کور کے نوجوان ڈاکٹروں کے لیے جدید جنگی طب، بیٹل فیلڈ نرسنگ اور ایڈوانس ٹراما لائف سپورٹ کی تربیت کا نمایاں مرکز بنے گا۔ اس کے علاوہ طلبہ کو ملٹری میڈیسن میں سپر اسپیشلائزیشن کا موقع بھی ملے گا، جس سے عالمی سطح پر اس شعبے میں بھارت کی شناخت مزید مضبوط ہوگی۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ علاج سے پہلے بیماریوں کی روک تھام پر توجہ دینا قومی سلامتی کا ایک اہم حصہ ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، پہننے کے قابل طبی آلات ، پیش گوئی پر مبنی تجزیاتی نظام اور جدید تشخیصی ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی مدد سے فوجیوں کی صحت کی حقیقی وقت میں نگرانی کی جا سکتی ہے اور ممکنہ طبی خطرات کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ بہتر طبی نظام کا براہِ راست تعلق فوجیوں کی جنگی صلاحیت اور ملک کی سلامتی سے ہے۔ ان کے مطابق احتیاطی صحت کی دیکھ بھال کو علاج سے پہلے دفاع کی پہلی لائن سمجھا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ایک ایسا جامع نظام تیار کیا جانا چاہیے جو بیماریوں کی نگرانی، ٹیکہ کاری، صفائی، غذائیت، جسمانی فٹنس، پیشہ ورانہ صحت اور باقاعدہ طبی معائنوں کے ذریعے ابتدائی مرحلے میں ہی صحت کے خطرات کی نشاندہی اور ان کا تدارک کر سکے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ نیا شعبہ ملک کی فوجی سوچ میں ایک انقلابی تبدیلی کی علامت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سب کو مل کر اس ادارے کو دنیا کے بہترین بیٹل فیلڈ میڈیکل ریسرچ سینٹر میں تبدیل کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔
اس موقع پر بری فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، دفاعی سیکریٹری راجیش کمار سنگھ، نائب سربراہِ فوج لیفٹیننٹ جنرل سندیپ جین، سنٹرل کمانڈ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل انیندیہ سین گپتا، آرمی میڈیکل کور کی ڈائریکٹر جنرل سرجن وائس ایڈمرل آرتی سرین، ایڈجوٹنٹ جنرل لیفٹیننٹ جنرل وی پی ایس کوشک، ڈائریکٹر جنرل آرمی میڈیکل سروسز اور آرمی میڈیکل کور کے کرنل کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل سی جی مرلی دھرن، وزارتِ دفاع کے ایڈیشنل سیکریٹری منیش ترپاٹھی، کمانڈ اسپتال (سنٹرل کمانڈ) کے کمانڈنٹ میجر جنرل آلوک بھلا سمیت متعدد اعلیٰ فوجی اور سرکاری حکام بھی موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan