
مراٹھا ریزرویشن اور مقدمات کی واپسی کا مطالبہ، حکومت کو 28 اگست تک مہلت
ممبئی ، 29 جولائی (ہ س) مراٹھا ریزرویشن تحریک کے رہنما منوج جارنگے نے بدھ کو اعلان کیا کہ اگر مراٹھا برادری کو ریزرویشن نہ دیا گیا اور تحریک کے دوران نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات واپس نہ لیے گئے تو 29 اگست سے حکومت کے خلاف آخری اور فیصلہ کن تحریک شروع کی جائے گی۔ جالنہ ضلع کے انترولی سراٹی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے منوج جارنگے نے کہا کہ مراٹھا برادری کے 58 لاکھ کنبی ریکارڈ مل چکے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب اتنے بڑے پیمانے پر ریکارڈ دستیاب ہیں تو حکومت اہل مراٹھا افراد کو کنبی سرٹیفکیٹ جاری کیوں نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برس سے مراٹھا سماج اپنے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے، لیکن حکومت کی جانب سے صرف یقین دہانیاں اور وعدے کیے جا رہے ہیں، جبکہ عملی طور پر کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ جارنگے نے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ جن مراٹھا افراد کے کنبی ریکارڈ مل جائیں گے، انہیں او بی سی زمرے کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی مراٹھا ریزرویشن تحریک کے دوران نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریکارڈ دستیاب ہونے کے باوجود کنبی سرٹیفکیٹ کے لیے دی گئی درخواستیں مسترد کی جا رہی ہیں، جس کے باعث مراٹھا برادری میں شدید ناراضی پائی جا رہی ہے۔ منوج جارنگے نے مزید الزام عائد کیا کہ تحریک کے دوران مراٹھا نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات بھی اب تک واپس نہیں لیے گئے، حالانکہ حکومت اس سلسلے میں وعدہ کر چکی تھی۔
انہوں نے حکومت کو 28 اگست تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس مدت کے اندر مراٹھا سماج کے مطالبات پورے نہیں کیے گئے تو 29 اگست سے ریاستی حکومت کے خلاف آخری اور فیصلہ کن تحریک شروع کی جائے گی، جس کی پوری ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے