
نئی دہلی، 29 جولائی (ہ س)۔ راجیہ سبھا میں بدھ کے روز کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ (سی پی آئی-ایم) کی طلباتنظیم کی رہنما اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (جے این یو ایس یو) کی سابق صدر آئیشی گھوش کو حراست میں لینے کی دہلی پولیس کی مبینہ کوشش پر اپوزیشن اور ٹریژری بنچوں کے درمیان گرما گرم جھڑپیں ہوئیں۔ اپوزیشن نے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا، جبکہ حکومت نے اسے عام امن و امان کا عمل قرار دیا اور اپوزیشن پر معاملے کی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔
سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمنٹ جان برٹاس نے ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور الزام لگایا کہ دہلی پولیس کے کچھ اہلکار منگل کو پارٹی ہیڈ کوارٹر اے کے جی بھون میں آئیشی گھوش کو گرفتار کرنے کے ارادے سے پہنچے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ پولیس نے اطلاع دی کہ وہ 2021 میں جے این یو کیمپس میں ہونے والے احتجاج سے متعلق ایک معاملے میں کارروائی کر رہی ہے۔ برٹاس نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکار بغیر وردی کے پارٹی آفس میں داخل ہوئے اور خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی۔
راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملیکارجن کھڑگے نے برٹاس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی تسلیم شدہ قومی سیاسی جماعت کے دفتر میں پولیس اور مرکزی ایجنسیوں کے افسران کسی کو مناسب وارنٹ کے بغیر گرفتار کرنے کے لیے داخل ہوتے ہیں تو یہ جمہوریت کے لیے ایک خطرناک صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائی کے ذمہ دار افسران کی جوابدہی طے کی جانی چاہیے اور یہ واضح ہونا چاہیے کہ انہیں کس کی ہدایت پر وہاں بھیجا گیا تھا۔
حکومت کی جانب سے قائد ایوان اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ امن و امان کی ایک عام کارروائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب طلبہ کارکنان امن و امان کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو پولیس کو اپنی ذمہ داری کے مطابق کام کرنا پڑتا ہے اور اسے غیر معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
ایمرجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے نڈا نے کہا کہ وہ خود طلبہ کی زندگی میں سرگرم رہے ہیں اور کانگریس کے دور حکومت میں کئی بار کلاس روم سے گرفتار ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ سیاست میں سرگرم افراد کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اپوزیشن کو پولیس کی معمول کی امن و امان کی کارروائی پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔
یاد رہے کہ منگل کو دہلی پولیس کی ایک ٹیم مبینہ طور پر آئیشی گھوش کو ایک پرانے معاملے میں حراست میں لینے کے لیے سی پی آئی (ایم) کے اے کے جی بھون پہنچی تھی۔ تاہم پارٹی رہنماو¿ں کے احتجاج کے بعد پولیس کی ٹیم انہیں ساتھ لیے بغیر واپس چلی گئی۔ سی پی آئی (ایم) کا الزام ہے کہ جنتر منتر پر حالیہ طلبہ کے احتجاج میں آئیشی گھوش کی شرکت کے خلاف ایک پرانے معاملہ کا استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوششہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی