
جموں, 29 جولائی (ہ س): لداخ کی نوبرا وادی میں یاک جسے پہاڑ ی گائے بھی کہتے ہیں، اس کی آبادی میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے اسے خوش آئند قرار دیتے ہوئے یاک پروری کو مقامی قبائلی آبادی کے لیے پائیدار ذریعہ معاش اور اقتصادی ترقی کا اہم وسیلہ بنانے پر زور دیا ہے۔ڈپٹی کمشنر نوبرا، مکُل بنیوال نے یاک کو نوبرا وادی کی ثقافتی شناخت اور روایتی ورثے کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نسل کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یاک پالنے والوں کی حوصلہ افزائی، یاک کی اون کی بہتر مارکیٹنگ اور یاک سے تیار ہونے والی مصنوعات کو فروغ دے کر مقامی معیشت اور سیاحت کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔
یہ باتیں نوبرا کے یاک بریڈنگ فارم میں منعقدہ یاک پروری سے متعلق بیداری اور جدید ٹیکنالوجی کے مظاہرے کے پروگرام کے دوران کہی گئیں۔ پروگرام میں یاک کے تحفظ، افزائش نسل اور سائنسی طریقہ کار سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یاک کے تحفظ سے متعلق سینئر سائنس دان ڈاکٹر مختار حسین نے یاک پروری کے جدید سائنسی طریقوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بیماریوں سے بچاؤ کے لیے باقاعدہ ویکسینیشن کی اہمیت اجاگر کی۔
بلاک ویٹرنری آفیسر نوبرا، ڈاکٹر موٹوپ اینگمو نے بتایا کہ یاک کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ان کی رجسٹریشن اور ٹیگنگ ضروری ہے تاکہ یاک پالنے والے مختلف سرکاری اسکیموں سے مستفید ہو سکیں۔پروگرام میں ڈگگر، تانگیار، خیما، کھنرو، خاردونگ، خلسر، لرگاب، واریس، ہندر ڈاک، ترتک اور بوگدانگ سمیت مختلف گاؤں سے تعلق رکھنے والے 135 سے زائد یاک پالنے والوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایس ٹی سی اسکیم کے تحت مستحق افراد میں مویشیوں کے چارے کے 200 تھیلے، 100 ترپال، 100 سولر لائٹس، معدنی غذائی آمیزہ اور ویٹرنری ادویات بھی تقسیم کی گئیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر