بامبے ہائی کورٹ نے ایس ڈی پی آئی عہدیداروں کی شہر بدری منسوخ کی
۔ کیا یہ کارروائی صرف اس بنیاد پر کی گئی کہ درخواست گزار ایک مخصوص مذہب سے تعلق رکھتے ہیں: عدالت کا پولیس سے استفسار۔ عدالت کا اظہارِ رائے اور بنیادی حقوق پر زور، مضبوط قانونی بنیاد کے بغیر شہر بدری غیر قانونی قرارممبئی، 29 جولائی (ہ س)۔ بامبے ہائ
Legal Mumbai SDPI Externment


۔ کیا یہ کارروائی صرف اس بنیاد پر کی گئی کہ درخواست گزار ایک مخصوص مذہب سے تعلق رکھتے ہیں: عدالت کا پولیس سے استفسار۔ عدالت کا اظہارِ رائے اور بنیادی حقوق پر زور، مضبوط قانونی بنیاد کے بغیر شہر بدری غیر قانونی قرارممبئی، 29 جولائی (ہ س)۔ بامبے ہائی کورٹ نے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے دو عہدیداروں کے خلاف ممبئی پولیس کی جانب سے جاری ایک سالہ شہر بدری کے احکامات منسوخ کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس نوعیت کی کارروائی قانون کے تقاضوں پر پوری نہیں اترتی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی شہری کے بنیادی حقوق محدود کرنے سے پہلے انتظامیہ کے پاس مضبوط قانونی بنیاد اور قابل اعتماد مواد موجود ہونا ضروری ہے۔جسٹس مادھو جے جمدار نے سماعت کے دوران متعدد اہم مشاہدات کرتے ہوئے پولیس سے استفسار کیا کہ جب متعلقہ احتجاجی پروگراموں میں مختلف سیاسی جماعتوں اور عام شہریوں نے بھی شرکت کی تھی تو صرف انہی دو افراد کے خلاف شہر بدری کی کارروائی کیوں کی گئی۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا کارروائی کا تعلق درخواست گزاروں کی مذہبی شناخت سے تو نہیں تھا۔عدالت نے بابری مسجد سے متعلق احتجاج کے ایک مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شہری یہ رائے رکھتا ہے کہ بابری مسجد کو منہدم نہیں کیا جانا چاہیے تھا تو یہ محض ایک نظریاتی مؤقف ہے، جسے ملک دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق آئین ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور صرف اختلافی نقطۂ نظر اختیار کرنا کسی سخت قانونی کارروائی کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں کا بھی حوالہ دیا، جن میں ایس ڈی پی آئی کے دو دیگر کارکنوں کو اسی نوعیت کے مقدمات میں راحت دی گئی تھی۔ اس وقت بھی عدالت نے واضح کیا تھا کہ صرف احتجاج سے متعلق درج ایف آئی آر کسی شخص کی شہر بدری کی بنیاد نہیں بن سکتی۔درخواست گزار فیروز عبدالوہاب خان اور محمد رفیق غلام رسول انصاری نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ 3 دسمبر 2025 کو ان کے خلاف جاری شہر بدری کے احکامات تین مقدمات کی بنیاد پر صادر کیے گئے تھے، جن کا تعلق وقف بل، چیمبور۔گوونڈی میں سیمنٹ گوداموں کے تنازع اور بابری مسجد سے متعلق احتجاج سے تھا۔ درخواست گزاروں کے وکیل ابراہیم حربٹ نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ مقدمات مہاراشٹر پولیس ایکٹ کی دفعہ 56 کے تحت شہر بدری کے معیار پر پورا نہیں اترتے، کیونکہ اس قانون کا اطلاق صرف ایسے معاملات میں ہوتا ہے جہاں کسی شخص سے عوام کی جان و مال کو حقیقی خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہو۔ریاست کی جانب سے چیف پبلک پراسیکیوٹر ششیر ہیرائے نے پولیس کی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ درخواست گزاروں کے کالعدم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے روابط تھے، تاہم درخواست گزاروں نے اس الزام کی تردید کی۔ اس پر عدالت نے نشاندہی کی کہ شوکاز نوٹس میں اس الزام کا کوئی ذکر موجود نہیں، اس لیے بعد میں پیش کی گئی اس دلیل کو کارروائی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں نعروں کے علاوہ نہ کسی فرد پر حملے کا الزام ہے اور نہ ہی سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانے کا کوئی واضح الزام موجود ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ انہی احتجاجی پروگراموں میں شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے)، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، کانگریس اور دیگر شہری بھی شریک تھے، اس لیے صرف دو افراد کے خلاف کارروائی کے جواز کی وضاحت ضروری تھی۔جسٹس مادھو جے جمدار نے کہا کہ بغیر اجازت احتجاج اپنی جگہ ایک الگ معاملہ ہو سکتا ہے، لیکن اس بنیاد پر صرف منتخب افراد کے خلاف شہر بدری جیسے سخت اقدامات نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ آیا کانگریس یا شیو سینا (یو بی ٹی) کے کارکنوں کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کارروائی کی گئی تھی۔ سماعت کے دوران عدالت نے حالیہ نیٹ امتحان کے مبینہ پرچہ لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مظاہرین نے خود واضح کیا تھا کہ ان کا مقصد ہندو۔مسلم تنازع پیدا کرنا نہیں بلکہ اپنے مطالبات پرامن طریقے سے پیش کرنا تھا، جبکہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ریاستی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت مذہب کی بنیاد پر کارروائی نہیں کر رہی، تاہم اگر کوئی مذہب کی بنیاد پر ہنگامہ آرائی کرے تو قانون حرکت میں آتا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پی ایف آئی پر پابندی کے بعد نئی تنظیم وجود میں آئی ہے، صرف نام اور ظاہری شکل بدلی ہے۔ اس پر عدالت نے واضح کیا کہ بنیادی حقوق سے متعلق معاملات میں قیاس آرائی یا مفروضوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ عدالت کے مطابق انتظامیہ صرف انہی شواہد پر انحصار کر سکتی ہے جو سرکاری ریکارڈ اور شوکاز نوٹس کا حصہ ہوں، بعد میں پیش کیے گئے الزامات کو کارروائی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شہر بدری ایک غیر معمولی قانونی اقدام ہے، کیونکہ اس سے شہری کے آزادانہ نقل و حرکت کے بنیادی حق پر اثر پڑتا ہے، اس لیے قانون میں مقرر تمام شرائط پر سختی سے عمل ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ زیرِ تفتیش مقدمات کی بنیاد پر کسی شہری کو شہر بدر نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً جب متعلقہ ایف آئی آر صرف حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج سے متعلق ہوں۔ان تمام نکات کی بنیاد پر بامبے ہائی کورٹ نے ممبئی پولیس کی کارروائی کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے دونوں عہدیداروں کے خلاف جاری شہر بدری کے احکامات منسوخ کر دیے۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande