
ٹوکیو (جاپان)، 29 جولائی (ہ س)۔ جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے بدھ کی صبح کہا کہ زلزلے سے متاثرہ جنوب مغربی مرکزی جزیرے کیوشو کے کماموٹو علاقے میں کم از کم 13 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو ئی ہے۔ یہ علاقہ ایک روز قبل آنے والے طاقتور زلزلے سے بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ مقامی حکام کے مطابق مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.1 ریکارڈ کی گئی۔ بہت سے لوگ اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ امدادی کارکن لوگوں کو تلاش کر رہے ہیں۔
جاپان ٹائمز اور جاپان ٹوڈے کی رپورٹوں کے مطابق، وزیر اعظم تاکائیچی نے کہا، ”جن لوگوں نے اپنی جان گنوائی ہے، ان کے اہل خانہ کے تئیں میں گہری تعزیت کا اظہار کرتی ہوں۔“ انہوں نے کہا کہ حکومت زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچانے اور نکالنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ منگل کی شام 4:27 بجے آنے والے طاقتور زلزلے کے بعد ایک شاپنگ سینٹر (آئن مال) میں ہونے والے دھماکے میں دو خواتین ہلاک ہو گئیں۔ ایک خاتون بے ہوش پائی گئی۔ حکام کے مطابق دھماکہ گیس لیکج کے باعث ہوا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے یاتسوشیرو شہر میں نپن پیپر انڈسٹریز مل کی ایک چمنی گر گئی۔ اس دوران گیارہ افراد لاپتہ ہوگئے۔ حادثے میں دو افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے، جب کہ بقیہ نو کی حالت فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی۔ زلزلے کے بعد بدھ کو کئی شدید آفٹر شاکس محسوس کیے گئے۔ حکام نے لوگوں سے زور دیا ہے کہ وہ بڑے زلزلوں کے تئیں محتاط رہیں۔
وزیراعظم تاکائیچی نے ہنگامی ڈیزاسٹر ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق بدھ کی صبح تک کماموٹو اور ناگاساکی کے علاقوں میں 261,500 سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات (انخلا کے مراکز) پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔ کیوشو الیکٹرک پاور کے مطابق، بدھ کی صبح تک کماموٹو کے علاقے میں 34,360 گھر بجلی سے محروم تھے۔ وزارت لینڈ کے مطابق، صبح تک کماموٹو، ساگا اور ناگاساکی کے علاقوں میں تقریباً 84,000 گھر وں میں پانی کی فراہمی نہیں ہو رہی تھی۔
زلزلے نے یاتسوشیرو میں کیوشو ایکسپریس وے پر ایک اوور پاس کو کافی نقصان پہنچایا اور اسی شہر میں ایک پل کا پیدل چلنے والا حصہ گرگیا۔
علاقے میں ایکسپریس وے کے کچھ حصے بند کر دیے گئے تھے، جبکہ جانچ کے لئے بدھ کو پہلی ٹرینوں کے ساتھ ہی کیوشو شنکانسن (بلٹ ٹرین) سروس کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ جاپان کی موسمیاتی ایجنسی (جے ایم اے) کے ایک اہلکار نے مزید زلزلوں کے امکان کے لیے لوگوں سے ہائی الرٹ رہنے کی اپیل کی۔
وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے کہا کہ تقریباً 3,600 سیلف ڈیفنس فورسز (ایس ڈی ایف) کے اہلکاروں کو آفت زدہ علاقے میں تعینات کیا گیا ہے۔
پریفیکچرل پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے سے قبل تقریباً 200 افراد شاپنگ سینٹر سے باہر نکل چکے تھے۔ فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق عمارت کی دوسری منزل گرنے کے بعد مزید کئی افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ مال کماموٹو شہر کے بالکل باہر واقع ہے۔ ٹوکیو کے مشرق میں چیبا میں واقع ہیڈ کوارٹر ایون کے ترجمان نے بتایا کہ مال کی چھتیں اور دیواریں منہدم ہو گئیں۔
وزیر اعظم کے مطابق، ملک کے جنوب مغرب میں آنے والے زلزلے کی وجہ سے عمارتیں گر گئیں اور آگ لگ گئی۔ کم از کم 50 افراد کواسپتال لے جایا گیا۔ تاکائیچی نے کہا کہ املاک کے نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ جاپان کی موسمیاتی ایجنسی کے ترجمان نے بتایا کہ زلزلے کے فوراً بعد ایک میٹر (تین فٹ) تک سونامی کے لیے الرٹ جاری کیا گیا تھا، لیکن شام 6:10 بجے کے قریب وارننگ واپس لے لی گئی۔ نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے کہا کہ نیوکلیئر پاور پلانٹس میں فوری طور پر کوئی غیر معمولی بات درج نہیں کی گئی۔
قابل غور ہے کہ جاپان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں سب سے زیادہ زلزلے آتے ہیں۔ یہ بحر الکاہل کے رنگ آف فائر کے مغربی کنارے پر چار بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں پر واقع ہے۔ تقریباً 12.5 کروڑ آبادی پر مشتمل اس جزیرے میں ہر سال سینکڑوں جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں اور دنیا کے تقریباً 18 فیصد زلزلے یہیں آتے ہیں۔ 2011 میں جاپان میں آئے 9.0 شدت کے زلزلے وہاں کافی تباہی مچائی تھی، جس میں تقریباً 18,500 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو گئے تھے۔ فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ تباہ ہو گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد