جھارکھنڈ میں ایک کروڑ کا انعامی ماونواز مسیر بیسرا گرفتار؛ 141 معاملے درج
رانچی، 29 جولائی (ہ س)۔ جھارکھنڈ میں سیکورٹی فورسز نے نکسل ازم کے خلاف اپنی مہم میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ ممنوعہ سی پی آئی (ماو¿سٹ) کے مرکزی کمیٹی کے رکن اور ایک کروڑ روپے کے انعامی ماونواز مسیر بیسرا عرف ساگر دا کو ایک مشترکہ کارروائی میں
JH-NAXALITE-WITH-1-CRORE-BOUNTY-ARRESTED-


رانچی، 29 جولائی (ہ س)۔ جھارکھنڈ میں سیکورٹی فورسز نے نکسل ازم کے خلاف اپنی مہم میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ ممنوعہ سی پی آئی (ماو¿سٹ) کے مرکزی کمیٹی کے رکن اور ایک کروڑ روپے کے انعامی ماونواز مسیر بیسرا عرف ساگر دا کو ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔اس کے ساتھ تنظیم کے دو فعال ارکان اور دو دیگر کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بیسرا کے خلاف جھارکھنڈ میں 141 مقدمات درج ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ مسیر بیسرا نے اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ ٹاٹا میجک گاڑی میں گرڈیہ-دھنباد سرحدی علاقے میں نکسل مخالف خصوصی آپریشن سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ سیکورٹی فورسز نے اسے گھیر لیا اور دھنباد کے برواڈا میں گرفتار کر لیا۔

جھارکھنڈ پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیم نے یہ کامیابی خفیہ معلومات کی بنیاد پر حاصل کی۔ ٹاٹا میجک سے تین اے کے 47 رائفلیں بھی برآمد کی گئیں۔ بیسرا کے ساتھ ریجنل کمیٹی ممبر تمبا مانجھی اور ایریا کمیٹی ممبر برین ہنسدا کے علاوہ منگل مرمو اور دنیش رائے کو بھی گرفتار کیا گیا۔

مرکزی اور ریاستی سیکورٹی ایجنسیاں ان چاروں سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔ جھارکھنڈ کے انسپکٹر جنرل (آپریشنز) نریندر کمار سنگھ نے بدھ کو ان کی گرفتاری کی تصدیق کی۔ مسیر بیسرا طویل عرصے سے سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا تھا۔ وہ جھارکھنڈ، بہار، اڈیشہ اور چھتیس گڑھ میں سرگرم تھا۔ اس پر سکیورٹی فورسز پر حملے، قتل، جبری وصولی اور دھماکوں سمیت کئی سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande