'آپریشن دورہ پہاڑ' کے تحت 2.20 کروڑ کا انعامی، مسیربیسرا سمیت پانچ نکسلیوں کی گرفتار ی
تین اے کے 47 سمیت اسلحہ اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ برآمد رانچی، 29 جولائی (ہ س)۔ نکسل مخالف کارروائیوں میں ایک بڑی پیشرفت کرتے ہوئے جھارکھنڈ پولیس اور مرکزی سیکورٹی فورسز نے اعلی نکسلائٹ مسیر بیسرا عرف ساگر عرف بھاسکر عرف سرنیمل کو گرفتار کیا ہے
ماو


تین اے کے 47 سمیت اسلحہ اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ برآمد

رانچی، 29 جولائی (ہ س)۔ نکسل مخالف کارروائیوں میں ایک بڑی پیشرفت کرتے ہوئے جھارکھنڈ پولیس اور مرکزی سیکورٹی فورسز نے اعلی نکسلائٹ مسیر بیسرا عرف ساگر عرف بھاسکر عرف سرنیمل کو گرفتار کیا ہے۔بیسراسی پی آئی (ماونواز) کا واحد فعال پولیٹ بیورو ممبر ہے اور اس پر 2.20 کروڑ روپے کا انعام ہے۔ اس کے ساتھ تنظیم کے چار دیگر سرگرم ارکان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ مشترکہ کارروائی کے دوران ان کے قبضے سے تین اے کے 47 رائفلیں، آٹھ میگزین اور 288 زندہ کارتوس برآمد ہوئے۔

یہ کارروائی 28 جولائی کی دیر شام دھنباد ضلع کے بروڈا پولیس اسٹیشن کے علاقے کے جنگلوں میں مشترکہ آپریشن 'آپریشن دورہپہاڑ' کے تحت کی گئی۔ اس کارروائی میں دھنباد اور گریڈیہہ ضلع پولیس کے ساتھ سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی 209 کوبرا بٹالین کے اہلکار شامل تھے۔ مسیر بیسرا پر جھارکھنڈ حکومت کی طرف سے 1 کروڑ روپے اور اڈیشہ حکومت کی طرف سے 1.20 کروڑ روپے کا انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔

ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) تداشا مشرا، انسپکٹر جنرل (آئی جی) آپریشنز نریندر سنگھ، آئی جی ساکیت سنگھ، آئی جی انوپ برتھرے، ڈی آئی جی اندراجیت مہتا، دھنباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پربھات رنجن اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ومل کمار نے بدھ کو پولیس ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں آپریشن کی تفصیلات بتائیں۔

حکام نے بتایا کہ مسیر بیسرا کے ساتھ، تنظیم کی علاقائی کمیٹی کے رکن (آر سی ایم) اور 15 لاکھ روپے کا انعامی، مہنت عرف موچو عرف وبھیشن، ایریا کمیٹی کے رکن (اے سی ایم) گورو عرف بریندر ہنسدا عرف سوربھ اور تنظیم کے دو دیگر ارکان منگل مرمو اور دنیش رائے کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے قبضے سے تین اے کے 47 رائفلیں، آٹھ میگزین اور 288 زندہ کارتوس برآمد ہوئے۔

پولیس کے مطابق مسیر بیسرا تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جھارکھنڈ، اڈیشہ، بہار اور دیگر ریاستوں میں ماو¿نواز سرگرمیاں انجام دے رہا تھا۔ اس کے خلاف مختلف ریاستوں میں 175 سے زیادہ فوجداری مقدمات درج ہیں۔ اس نےتنظیم کی حکمت عملی وضع کرنے، اعلی قیادت کی رہنمائی کرنے اور کئی بڑے نکسلی حملوں کی سازش کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مسیر بیسرا پر کئی بڑے نکسل واقعات میں ملوث ہونے کا الزام ہے جن میں 2001 میں ہزاری باغ کے چرچو میں 12 سی آر پی ایف اہلکاروں کا قتل، دھنباد کے توپچانچی میں 13 پولیس اہلکاروں کا قتل، مغربی سنگھ بھوم کے منوہر پور میں پولیس فورس پر حملہ، بوکارو میں چندر پورہ ریلوے اسٹیشن پر حملہ، گریڈیہہ ہوم گارڈ کے اسلحہ خانے سے 186 رائفلوں کی لوٹ مار، جہان آباد جیل توڑنا، 2018 کا کوچائی انکاو¿نٹر، 2022 میں سابق ایم ایل اے گروچرن نائک کے محافظوں کا قتل، 2023 میں دھماکہ خیز مواد کے ڈپو کی لوٹ مار، 2025 میں چائیباسا اور گوئلکیرا کے علاقے میں کئی مقابلوں اور آئی ای ڈی دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

پولیس کا خیال ہے کہ برآمد شدہ ہتھیار مستقبل میں نکسلیوں کے بڑے واقعات کو انجام دینے کی تیاری کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ ان ہتھیاروں کی بازیابی سے ماو¿نواز تنظیم کی آپریشنل صلاحیت کو شدید دھچکا لگا ہے۔

ڈی جی پی تداشا مشرا نے کہا کہ 'آپریشن دورہ پہاڑ' جھارکھنڈ پولیس کے انسداد نکسل آپریشن کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند مہینوں میں پولیس نے ایک منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت ماو¿نواز تنظیم کی اعلی قیادت کو مسلسل نشانہ بنایا ہے۔ بڑی تعداد میں نکسلیوں نے پہلے ہتھیار ڈال دیے، اس کے بعد اعلی کمانڈروں رویندر گنجو اور اجے مہتو عرف ٹائیگر کی گرفتاری ہوئی۔ ایریا کمیٹی کی رکن ببیتا عرف انیتا کسکو نے بھی ہتھیار ڈال دیے اور اب مسیر بیسرا کی گرفتاری سے تنظیم کی اعلی قیادت کو سب سے بڑا دھچکا لگا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ حکومت کی ہتھیار ڈالنے اور بحالی کی پالیسی کے مثبت اثرات مسلسل نظر آرہے ہیں۔ نکسلیوں کی ایک بڑی تعداد تشدد کا راستہ چھوڑ کر مرکزی دھارے میں واپس آ رہی ہے۔ ہتھیار ڈالنے والے نکسلیوں کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی پولیس کے قبضے میں آگیا ہے، جس سے تنظیم کی طاقت مسلسل کمزور ہوئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande