
بغداد، 29 جولائی (ہ س)۔ امریکہ اور سعودی عرب کی افواج نے عراق میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف ) پر حملہ کیا ہے۔ ان قوتوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔ یہ مربوط فوجی کارروائی گزشتہ 30 دنوں میں سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ امریکہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مربوط فوجی کارروائی سے قبل ایران نے اردن میں اس کے ایک اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے تھے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اور سعودی افواج کے حملے کے بعد عراق کے شمالی صوبے نینویٰ اور جنوبی بصرہ صوبے میں کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔بصرہ میں حملے کے بعد بڑی تعداد میں فائر فائٹرز پہنچے۔ پی ایم ایف نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ حملوں میں عراق بھر میں اس کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ نینویٰ میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔
یمن کے ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروپ حوثی نے پی ایم ایف پر حملے کی مذمت کی ہے۔ المسیرہ ٹی وی پر جاری کردہ ایک بیان میں حوثی نے کہا کہ یہ عراق کی خودمختاری پر ایک صریح حملہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ پاپولر موبیلائزیشن فورسز عراق کی سرکاری سرکاری سیکورٹی فورس ہے۔ اس کا قیام 15 جون 2014 کو ایران کے حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا گروپوں کو ملا کر کیا گیا تھا۔ اگرچہ پی ایم ایف عراقی وزیر اعظم اور وزارت دفاع کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، لیکن عملی طور پر ا س پر ایران کا گہرا اثر سمجھا جاتا ہے ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد