
عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر سائنسی اجلاس، اسکریننگ کیمپ منعقد
علی گڑھ، 29 جولائی (ہ س)۔
جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر ہیپاٹائٹس سے بچاؤ، بروقت تشخیص ، آگہی اور علاج کے تسلسل کو مضبوط بنانے کے مقصد سے مختلف پروگرام منعقد کئے گئے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے موضوع ‘‘ہیپاٹائٹس: آئیے اسے بہتر طور پر سمجھیں’’ کے تحت منعقدہ اس پروگرام میں سائنسی اجلاس، طبی عملے کے لیے مفت ہیپاٹائٹس بی قوتِ مدافعت اسکریننگ کیمپ، خون عطیہ کرنے والوں سے رابطے کا خصوصی اقدام اور مریضوں کے لیے عوامی بیداری مہم شامل تھی۔
پروگرام کا افتتاح فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد کی سرپرستی میں ہوا، جبکہ اس کا انعقاد جے این میڈیکل کالج کے پرنسپل و چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور گیسٹرواینٹرولوجی لیبارٹری کے انچارج پروفیسر انجم پرویز کی رہنمائی میں کیا گیا۔
حاضرین کا خیر مقدم کرتے ہوئے شعبہ میڈیسن کے چیئرمین اور پروگرام کے آرگنائزنگ چیئرمین پروفیسر خواجہ سیف اللہ ظفر نے کہا کہ مریضوں، طبی عملے اور وسیع تر سماج کے لیے ہیپاٹائٹس سے متعلق معلومات کو آسان اور قابل فہم بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وائرل ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے قومی ہدف کے حصول کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔
سائنسی اجلاس کا آغاز شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے ڈاکٹر محمد یاسر زبیر کی جانب سے ہندوستان میں وائرل ہیپاٹائٹس کی وبائی صورتِ حال کے جائزے سے ہوا۔ انہوں نے ملک میں اس بیماری کے بوجھ کو 2030 تک اس کے خاتمے کے عالمی ہدف کے تناظر میں پیش کیا۔ اس کے بعد شعبہ مائیکرو بایولوجی کی فیکلٹی ممبر اور ہاسپٹل انفیکشن کنٹرول کمیٹی (ایچ آئی سی سی) کی ممبر سکریٹری پروفیسر فاطمہ خان نے خون کے ذریعے منتقل ہونے والے وائرس سے پیشہ ورانہ خطرات، متاثر ہونے کے بعد احتیاط اور علاج اور ہیپاٹائٹس بی سمیت دیگر خون سے منتقل ہونے والے انفیکشن سے طبی عملے کے تحفظ کی حکمت عملی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
شعبہ میڈیسن کے ڈاکٹر ایم اویس اشرف نے وائرل ہیپاٹائٹس کے خاموشی سے جگر کے سیروسس اور جگر کے سرطان تک پہنچنے کے عمل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے مریض اس وقت تک کسی واضح علامت کا اظہار نہیں کرتے جب تک بیماری سنگین مرحلے میں داخل نہ ہو جائے۔ انہوں نے بروقت تشخیص اور مناسب وقت پر اینٹی وائرل علاج کی اہمیت پر زور دیا۔ شعبہ امراضِ نسواں کی ڈاکٹر بشریٰ فاطمہ نے حمل کے دوران ہیپاٹائٹس، قبل از زچگی اسکریننگ، ماں سے بچے میں وائرس کی منتقلی کی روک تھام اور حاملہ خواتین کی نگہداشت پر روشنی ڈالی، جبکہ شعبہ اطفال کے ڈاکٹر ظفر عالم نے بچوں میں وائرل ہیپاٹائٹس کی تشخیص، حفاظتی ٹیکہ کاری اور علاج کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔
ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے عنوان پر ایک پینل مباحثہ بھی منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈاکٹر ایم اویس اشرف نے کی۔ مختلف شعبوں کے اساتذہ نے اس میں شرکت کرتے ہوئے ہیپاٹائٹس کی جانچ کو مزید مؤثر بنانے، ٹیکہ کاری کی شرح میں اضافہ، پیشہ ورانہ تحفظ کو مضبوط کرنے اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے علاج کے تسلسل کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
عوامی صحت کے ایک دیگر اقدام کے تحت ڈاکٹر ایم اویس اشرف نے جے این ایم سی کے بلڈ بینک کے تعاون سے ایسے رضاکار خون عطیہ کنندگان کی نشاندہی کی جن میں خون عطیہ سے قبل معمول کی جانچ کے دوران ہیپاٹائٹس بی یا ہیپاٹائٹس سی کی رپورٹ مثبت آئی تھی۔ ان افراد سے ذاتی طور پر رابطہ کیا گیا، انہیں مشاورت فراہم کی گئی اور ماہر ہیپاٹولوجسٹ کی نگرانی میں مزید معائنے اور علاج کے لیے گیسٹرواینٹرولوجی و ہیپاٹولوجی کلینک میں ان کا اندراج کیا گیا۔
اس موقع پر گیسٹرواینٹرولوجی و ہیپاٹولوجی اوپی ڈی میں مریضوں اور ان کے تیمارداروں کے لیے خصوصی بیداری سیشن بھی منعقد کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے آسان اور عام فہم زبان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کی وجوہات، ان کے پھیلاؤ کے طریقوں، علاج کا مکمل کورس پورا کرنے اور باقاعدہ طبی معائنے کی اہمیت پر زور دیا، نیز حاضرین کو نیشنل وائرل ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام (این وی ایچ سی پی) کے تحت دستیاب مفت تشخیصی و طبی سہولیات سے بھی آگاہ کیا۔
پروگرام کا اختتام ڈاکٹر محمد ثاقب عالم کے کلمات تشکر پر ہوا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ