
چنڈی گڑھ، 29 جولائی(ہ س)۔ مختلف مطالبات کو لے کر طویل عرصے سے جدوجہد کر رہی ہیلتھ سپروائزرز اور آشا ورکرز یونینوں کے نمائندوں نے بدھ کے روز ہریانہ کی وزیرِ صحت آرتی سنگھ راؤ سے ملاقات کی۔ کئی گھنٹے جاری رہنے والی اس میٹنگ میں مطالبات پر فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا، تاہم وزیرِ صحت نے متعلقہ حکام کو تمام مطالبات پر مرحلہ وار اور مقررہ مدت کے اندر کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔
اجلاس کے بعد وزیرِ صحت آرتی سنگھ راؤ نے کہا کہ صفِ اول کے صحت کارکنوں کو درپیش مسائل، طویل عرصے سے زیر التوا مطالبات اور کام کے دوران پیش آنے والی عملی مشکلات کو تفصیل سے سنا گیا ہے۔
اجلاس کے دوران یونین کے نمائندوں نے اپنے مطالبات اور مسائل وزیرِ صحت کے سامنے پیش کیے۔ آرتی سنگھ راؤ نے تمام جائز مطالبات کو سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ سنا اور حکام کو واضح ہدایات دیں کہ ملازمین کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر مقررہ مدت کے اندر حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے میں ہیلتھ سپروائزرز اور آشا ورکرز کا کردار انتہائی اہم ہے، کیونکہ وہ براہِ راست عوام سے رابطے میں رہ کر سرکاری صحت اسکیموں کے فوائد نچلی سطح تک پہنچاتے ہیں۔ ایسے میں ان کے مفادات کا تحفظ اور انہیں بہتر کام کا ماحول فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔وزیرِ صحت نے اجلاس میں موجود افسران کو ہدایت دی کہ یونین کے نمائندوں کی جانب سے اٹھائے گئے تمام نکات پر فوری کارروائی کی جائے اور متعلقہ فائلوں کی کارروائی میں تیزی لائی جائے، تاکہ مقررہ مدت کے اندر مثبت نتائج سامنے آ سکیں۔اجلاس میں محکمہ صحت کی ایڈیشنل چیف سیکریٹری ڈاکٹر سمیتا مشرا، نیشنل ہیلتھ مشن ہریانہ کے مشن ڈائریکٹر آر۔ ایس۔ ڈھلوں، نیشنل ہیلتھ مشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وریندر یادو سمیت محکمہ صحت کے متعدد سینئر افسران بھی موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan