کسانوں نے رات بھوپال کی سڑکوں پر گزاری، سی ایم ہاو¿س کے گھیراو¿پر بضد، نرمداپورم روڈ پر واقع اسکولوں میں آج تعطیل
بھوپال، 29 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال پہنچنے والے کسانوں نے مونگ کی 100 فیصد سرکاری خریداری اور کھاد کی بہتر فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے منگل کی رات دیر گئے ہوشنگ آباد روڈ پر ڈیرے ڈالے۔ انتظامیہ کے ساتھ بات چیت بے نتیجہ رہنے کے بعد
Farmers-spent-the-night-on-the-streets-in-Bhopal


بھوپال، 29 جولائی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال پہنچنے والے کسانوں نے مونگ کی 100 فیصد سرکاری خریداری اور کھاد کی بہتر فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے منگل کی رات دیر گئے ہوشنگ آباد روڈ پر ڈیرے ڈالے۔ انتظامیہ کے ساتھ بات چیت بے نتیجہ رہنے کے بعد کسان بدھ کو وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کا گھیراو¿ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ احتجاج کی وجہ سے بھوپال کلکٹر نے نرمدا پورم روڈ پر واقع تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں آج چھٹی کا اعلان کیا ہے۔

نرمداپورم کے برکھیڑا سے پیر کے روز شروع ہوئی’کسان کرانتی پد یاترا‘منگل کی شام عبیداللہ گنج، منڈی دیپ اور 11 میل کے بائی پاس سے ہوتے ہوئے دارالحکومت بھوپال میں داخل ہوئی۔ رات ہوتے ہی، تقریباً 2000 کسانوں نے ہوشنگ آباد روڈ پر ڈیرے ڈال لیے تھے۔ صورتحال کو سنبھالنے کے لیے رات دیر گئے انتظامی افسران اور کسان رہنماو¿ں کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے تک میراتھن میٹنگ ہوئی لیکن اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے بات چیت ناکام ہو گئی۔ کسان رہنماو¿ں نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے اور بدھ کو وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کریں گے۔

بھوپال ضلع انتظامیہ نے سڑکوں پر کسانوں کی مسلسل موجودگی اور احتجاج کے امکان کے پیش نظر احتیاطی اقدامات اٹھائے ہیں۔ کلکٹر کے حکم کے مطابق نرمداپورم روڈ پر واقع تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں بدھ کو چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔ دریں اثناءاحتجاج کی وجہ سے نرمداپورم روڈ، ایمس مارگ، بنسل پلازہ اور کٹارا ہلز علاقوں پر کل دیر رات سے ٹریفک شدید متاثر ہے۔ ٹریفک پولیس کو کئی راستوں پر روٹ موڑنا پڑے جس سے مسافروں کو صبح سے ہی شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔

کسانوں کے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کا گھیراو¿ کرنے کے اعلان کے بعد پولیس انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے۔ ویر ساورکر سیتو (حبیب گنج اوور برج) کے سامنے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور اہم سڑکوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو ایک کثیر سطحی حفاظتی گھیرے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس میں ایس اے ایف ، آر اے ایف اور 20 سے زیادہ بھوپال تھانہ کے دستے تعینات ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے وسیع انتظامات کیے ہیں، جن میں واٹر کینن، وجر گاڑیاں اور فساد مخالف آلات شامل ہیں۔

احتجاج کے درمیان، زراعت کے وزیر ایدل سنگھ کنشانا نے منگل کی رات کسانوں کے نمائندوں سے ملاقات کی اور ان کے خدشات کو سنجیدگی سے سنا۔ وزیر نے کسانوں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے جائز مطالبات کے تئیں حساس ہے اور تمام مسائل کو فوری اور مثبت طریقے سے حل کرنے کے لیے ضروری کارروائی کرے گی۔

وزیر زراعت کنشانا نے کسانوں سے امن برقرار رکھنے اور بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور کسان ، ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ حکومت کا مقصد کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمتوں کو یقینی بنانا اور انہیں کسی بھی قسم کی تکلیف سے بچانا ہے۔ میٹنگ کے دوران کسانوں کے نمائندوں نے اپنے مطالبات اور تحفظات کو تفصیل سے بتایا اور وزیر زراعت کنشانا نے انہیں متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر سنجیدگی سے غور کرنے اور فوری فیصلہ کرنے کا یقین دلایا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande