پروفیسر ڈاکٹر شہلا خان نے منھ کے سرطان کی پیش گوئی میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر مبنی تحقیق پیش کی
علی گڑھ، 29 جولائی (ہ س)۔ ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اورل پیتھالوجی و مائیکرو بایولوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شہلا خان نے کے ڈی ڈینٹل کالج، متھرا میں منعقدہ انڈین ایسوسی ایشن آف اورل اینڈ میکسیلوف
ڈاکٹر شہلا خان


علی گڑھ، 29 جولائی (ہ س)۔ ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اورل پیتھالوجی و مائیکرو بایولوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شہلا خان نے کے ڈی ڈینٹل کالج، متھرا میں منعقدہ انڈین ایسوسی ایشن آف اورل اینڈ میکسیلوفیشل پیتھالوجسٹس کے 23 ویں نیشنل پوسٹ گریجویٹ کنونشن میں ‘‘منھ کی بیماریوں میں کینسر کے امکان کی مصنوعی ذہانت پر مبنی پیش گوئی’’ موضوع پر ایک سائنسی مقالہ پیش کیا۔

ڈاکٹر شہلا خان نے ہندوستان میں منھ کے سرطان کے اضافہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بیماری کے زیادہ تر معاملات بروقت علاج یا تشخیص نہ ہونے کے باعث سامنے آتے ہیں، جن میں لیوکوپلاکیا، ایریتھروپلاکیا، اورل سب میوکَس فائبروسس اور اورل لائیکن پلینس شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیماری کی نوعیت میں پائے جانے والے فرق اور روایتی تشخیصی طریقوں کے محدودہونے کے باعث زیادہ خطرے والی کیفیت کی ابتدائی شناخت آج بھی ایک بڑا طبی چیلنج ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات، تشخیص کی درستگی میں اضافہ، بیماری کی بروقت شناخت اور ان کیفیتوں کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں جن میں بیماری کے کینسر میں تبدیل ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر خان نے کہا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت اورل پیتھالوجی کے میدان میں ایک امید افزا پیش رفت ہے، تاہم فی الحال یہ ماہرین کے لئے ایک معاون ذریعہ ہے اور معمول کے طبی استعمال سے قبل اس کی مزید توثیق ضروری ہے۔ ڈاکٹر شہلا خان نے کنونشن کے دوران ایک سائنسی اجلاس کی صدارت بھی کی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande